اردو
हिन्दी
جنوری 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مدارس؛ حق تعلیم، ریاستی حدود اور عدالتی فیصلہ

11 منٹس پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
Madrasas Right to Education Verdict
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

گردوپیش نازش احتشام اعظمی
انسانی معاشرت کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاست اور فرد کے درمیان کشمکش کا اصل نقطہ ہمیشہ سے ‘اختیار کی سرحد’ رہا ہے۔ ریاست جب اپنی طاقت کے نشے میں نظم و نسق (Regulation) اور بقا (Existence) کے فرق کو فراموش کر دیتی ہے، تو وہ انفرادی آزادیوں کے اس جوہر پر ضرب لگاتی ہے جس کی حفاظت کے لیے دستور وضع کیے جاتے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ محض ایک مذہبی ادارے کی بندش کے خلاف حکمِ امتناعی نہیں ہے، بلکہ یہ اس دستوری منطق کی بازیافت ہے کہ "ریاستی تسلیم” (State Recognition) کسی ادارے کے وجود کی ‘علتِ غائی’ نہیں ہو سکتی۔ منطق کا سادہ سا تقاضا ہے کہ جس شے کی تخلیق میں ریاست کا سرمایہ، زمین یا انتظامی مشینری صرف نہ ہوئی ہو، اس کی بقا کا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار بھی ریاست کے پاس مطلق نہیں ہو سکتا۔ جسٹس سبھاش ودیارتھی نے اسی منطقی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ ایک تعلیمی ادارہ اپنی نجی حیثیت میں علم کی شمع روشن رکھنے کا موروثی حق رکھتا ہے، اور اس حق کو محض ایک انتظامی رجسٹریشن کی عدم موجودگی میں چھین لینا ‘قانون کی حکمرانی’ نہیں بلکہ ‘حکمرانی کا جبر’ ہے۔
اس فیصلے کی گہرائی میں اتریں تو ہمیں ریاست کی اس منطقی خطا کا ادراک ہوتا ہے جس کے تحت اس نے ‘مدد’ اور ‘مداخلت’ کو ایک ہی ترازو میں تولنے کی کوشش کی۔ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ ‘جو فائدہ نہیں دیتا، وہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتا’۔ جب ایک مدرسہ ریاست سے مالی اعانت، زمین یا اساتذہ کی تنخواہوں کا طلب گار ہی نہیں، تو ریاست کس بنیاد پر اس کی تالہ بندی کا حق محفوظ رکھتی ہے؟ شرواستی کے ضلعی اقلیتی بہبود افسر کا حکم نامہ دراصل اسی منطقی مغالطے کا شاخسانہ تھا، جس نے ‘تسلیم’ کو ‘جوازِ وجود’ سمجھ لیا۔ عدالت نے اس مغالطے کو دور کرتے ہوئے یہ طے کر دیا کہ تعلیمی بورڈ سے الحاق ایک ‘رعایت’ ہے جو مخصوص فوائد کے حصول کے لیے حاصل کی جاتی ہے، یہ کوئی ‘پروانہِ زندگی’ نہیں ہے کہ جس کے بغیر سانس لینا جرم قرار پائے۔ یہ منطق نہ صرف مدارس بلکہ ہر اس نجی تعلیمی و تہذیبی کوشش کے لیے ایک ڈھال ہے جو ریاستی سرپرستی کے بغیر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتی ہے۔
تعلیم کی ابجد سے ناواقف سیاست جب شعور کے میناروں پر شب خون مارنے کی سعی کرتی ہے، تو عدل کے ایوانوں سے اٹھنے والی صدا ہی ظلمتِ شب میں چراغِ راہ ثابت ہوتی ہے۔ بھارت کی سرزمین پر مدارس محض چند دیواروں اور چھتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس تہذیبی و علمی ورثے کے امین ہیں جس نے صدیوں تک برصغیر کی پیاس بجھائی ہے اور جس کی کوکھ سے وہ عبقری شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے موڑ دیے۔ مگر افسوس کہ دورِ حاضر کے سیاسی تعصبات نے ان قدیم مراکزِ علم کو نشانہ ملامت بنا کر ایوانِ اقتدار کی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ حالیہ ایام میں الہ آباد ہائی کورٹ کے معزز جسٹس سبھاش ودیارتھی کا بصیرت افروز فیصلہ اسی تاریک منظرنامے میں نویدِ سحر بن کر ابھرا ہے، جس نے ریاست کی جبری گرفت اور اقلیتی اداروں کی فکری و انتظامی آزادی کے مابین ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے جسے مٹانا اب کسی بھی انتظامی قلم کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ یہ فیصلہ دراصل اس حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ علم کی ترویج کے لیے کسی سرکاری مہرِ تصدیق سے زیادہ اس موروثی اور آئینی حق کی اہمیت ہے جو ریاست کے ہر شہری کو میسر ہے، بشرطیکہ وہ ریاست کے خزانے پر بوجھ بنے بغیر اپنی علمی پیاس بجھانے کا سامان خود کر رہا ہو۔
اس قانون سازی اور عدالتی کشمکش کے پسِ منظر میں جھانکیں تو ہمیں وہ قدیم تاریخی تسلسل نظر آتا ہے جہاں مدارس نے جدید علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی اقدار کی آبیاری کی۔ یہ ادارے اس دور کی یادگار ہیں جب ریاست تعلیم کی ذمہ داری سے سبکدوش تھی اور سماج اپنے بل بوتے پر علم کے چراغ روشن کرتا تھا۔ اتر پردیش کے تعلیمی افق پر جس ہیجان نے حالیہ برسوں میں جنم لیا، وہ دراصل انتظامیہ کی اس بنیادی غلط فہمی کا نتیجہ تھا کہ شاید ‘تسلیم’ یا ‘مانکا’ (Recognition) کا مطلب کسی ادارے کے وجود کا پروانہ ہے۔ 2016 کے ضوابط اور اتر پردیش بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن کے قواعد کی آڑ میں جس طرح مدارس کو بند کرنے کی مہم جوئی شروع کی گئی، وہ نہ صرف قانونی طور پر خام تھی بلکہ اخلاقی طور پر بھی ایک جمہوری معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ تھی۔ شرواستی کے ایک مدرسے کو محض اس بنیاد پر تالا لگا دینے کا حکم دینا کہ اس کے پاس بورڈ کی سند نہیں، ایک ایسا آمرانہ فعل تھا جس نے دستورِ ہند کی روح کو تڑپا کر رکھ دیا۔ یہیں سے یہ بحث چھڑی کہ کیا ایک ایسا ادارہ جو حکومت سے نہ ایک پیسہ امداد لیتا ہے، نہ کسی گرانٹ کا طلب گار ہے، کیا اسے محض انتظامی رجسٹریشن کی عدم موجودگی میں ایک مجرم کی طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟

یہ سوال محض ایک مدرسے کا نہیں تھا، بلکہ یہ اس فلسفے کا امتحان تھا کہ ریاست شہری کی نجی زندگی اور اس کے تعلیمی انتخاب میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے۔
عدالت کے روبرو جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو درخواست گزار کے وکیل سید فاروق احمد نے ان آئینی باریکیوں کو جس مہارت سے اجاگر کیا، وہ قانون کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا کام تعلیم کی راہ میں حائل ہونا نہیں بلکہ اسے سہل بنانا ہے، اور جب ایک ادارہ اپنی مدد آپ کے تحت سماج کے پسماندہ طبقات کو جہالت کے اندھیروں سے نکال رہا ہو، تو ریاست کو اس کے دروازے پر پہرہ بٹھانے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں۔ دوسری طرف، ریاستی انتظامیہ کا رویہ اس قدر غیر سنجیدہ رہا کہ مدرسہ بورڈ کے رجسٹرار نے عدالت میں پیش ہونا بھی گوارا نہ کیا، گویا وہ پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کر چکے تھے یا پھر ان کے پاس اس جبری اقدام کا کوئی منطقی جواب موجود نہ تھا۔ اس خاموشی نے یہ ثابت کر دیا کہ بندش کے یہ احکامات کسی قانونی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ محض انتظامی ہراسانی کا ایک ذریعہ تھے تاکہ اقلیتی تعلیمی ڈھانچے کو نفسیاتی طور پر مفلوج کیا جا سکے۔
یہاں ہمیں دستورِ ہند کے آرٹیکل 30(1) کی عظمت کا احساس ہوتا ہے، جو اقلیتوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کریں اور انہیں اپنے ڈھنگ سے چلائیں۔ یہ کوئی معمولی رعایت نہیں بلکہ وہ عہدِ وفا ہے جو ہندوستان کے معماروں نے اس ملک کے تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے کیا تھا۔ جسٹس ودیارتھی نے اسی آئینی روح کو دوبارہ زندہ کیا اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں، بالخصوص انجم قادری اور کیرالہ ایجوکیشن بل کے تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا کہ تعلیمی ادارے تین زمروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جو نہ امداد چاہتے ہیں اور نہ سرکاری تسلیم کے طالب ہیں، وہ ریاست کی بیجا مداخلت سے مکمل آزاد ہیں۔ ان پر ریاست صرف اسی صورت میں ہاتھ ڈال سکتی ہے جب وہاں کوئی مجرمانہ سرگرمی ہو یا وہ امنِ عامہ کے لیے خطرہ بنیں، محض دفتری کاغذ کی کمی کسی ادارے کے خاتمے کا جواز نہیں بن سکتی۔ عدالت نے یہ نکتہ بالکل صاف کر دیا کہ ‘ریگولیشن’ کا مطلب ‘ڈیسٹرکشن’ یعنی تباہی نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ کسی کو فائدہ نہیں دے سکتے، تو آپ کو اس کا حقِ زیست چھیننے کا بھی کوئی حق نہیں۔
ریاست کی جانب سے یہ لولا لنگڑا استدلال پیش کیا گیا کہ مدارس کے طلباء کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور وہ سرکاری ملازمتوں کے اہل نہیں ہوں گے، اس لیے ان کا بند ہونا ہی بہتر ہے۔ کتنی مضحکہ خیز ہے یہ منطق کہ کسی کی بھلائی کے نام پر اس کا گھر ہی اجاڑ دیا جائے! یہ تو وہی بات ہوئی کہ کسی کو اس لیے قتل کر دیا جائے کہ اسے بخار ہے اور موت ہی اسے بیماری سے نجات دلا سکتی ہے۔ عدالت نے اس نکتے کو نہایت عمدہ پیرائے میں حل کر دیا کہ اگر کوئی طالب علم یا اس کے سرپرست یہ جانتے ہوئے وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں کہ انہیں سرکاری اسناد نہیں ملیں گی، تو یہ ان کا نجی فیصلہ ہے اور ریاست ان کی اس پسند پر پہرہ نہیں بٹھا سکتی۔ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی ذہنی و فکری آبیاری کا نام ہے، اور اگر کوئی ادارہ اس مقصد میں کامیاب ہے، تو وہ اپنا دستوری حق استعمال کر رہا ہے۔ کیا ریاست ان تمام پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز یا موسیقی اور آرٹ کے اداروں کو بھی بند کر دے گی جن کی اسناد سرکاری ملازمت کے لیے کافی نہیں ہوتیں؟ اگر نہیں، تو پھر مدارس کے لیے یہ دوہرا معیار کیوں؟
اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ صرف اتر پردیش کے چند مدارس کا قصہ نہیں، بلکہ پورے بھارت کے اقلیتی اداروں کے لیے ایک قلعہ ہے۔ یہ فیصلہ اس ذہنی رویے پر ضرب لگاتا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ریاست ہر چیز کی مالک ہے اور شہری اس کے محکوم۔ یہ واضح کرتا ہے کہ جمہوریت میں ‘خودمختاری’ کوئی عطیہ نہیں بلکہ ایک موروثی حق ہے۔ مدارس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی اصلاحِ احوال پر توجہ دیں، نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، لیکن یہ عمل کسی سرکاری ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ داخلی شعور کے نتیجے میں ہونا چاہیے۔ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ معیار مقرر کرے، ترغیب دے اور سہولیات فراہم کرے، نہ کہ تعلیمی اداروں کو مقتل میں تبدیل کر دے۔ بھارت جیسے کثیر المذہبی ملک میں یکسانیت کا جبر ہمیشہ انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے، جبکہ تنوع کا احترام ہی قومی یکجہتی کی اصل بنیاد ہے۔

مدرسہ بورڈ اور ریاستی حکام کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عدلیہ بیدار ہے اور دستور کے تحفظ کے لیے کسی بھی انتظامی زیادتی کا راستہ روکنے کے لیے تیار ہے۔ غیر تسلیم شدہ مدارس کو محض اس لیے غیر قانونی قرار دینا کہ وہ بورڈ کے تابع نہیں، قانون کی دانستہ غلط تشریح ہے۔ غیر قانونی ہونا اور غیر تسلیم شدہ ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔ ایک وہ ہے جو قانون کی خلاف ورزی کرے، اور دوسرا وہ ہے جو محض سرکاری فوائد سے دستبردار ہو کر اپنی آزادی برقرار رکھنا چاہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس فرق کو مٹا کر حق اور باطل کے درمیان ایک واضح حد قائم کر دی ہے۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جن مدارس کو سیل کیا گیا ہے، انہیں فوراً کھولا جائے، کیونکہ کسی بھی عمارت کو بند کرنا کسی کی زندگی کی سانسیں روکنے کے مترادف ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ حق کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں بلکہ استدلال اور قانونی پختگی سے ہوتی ہے۔ مدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت کو مضبوط کریں، اپنے مالی معاملات میں شفافیت لائیں اور سماج کو یہ دکھائیں کہ وہ کسی بھی سرکاری امداد کے بغیر بھی ایک مثالی تعلیمی نظام چلا سکتے ہیں۔ جب ریاست آپ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرے، تو آپ کی علمی فضیلت اور اخلاقی برتری ہی آپ کا سب سے بڑا دفاع ہوتی ہے۔ حکومت کی لاپرواہی کا رونا رونے کے بجائے، ہمیں اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ان عدالتی فیصلوں کو اپنی ڈھال بنانا چاہیے۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ فیصلہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) 2020 کے ان دعوؤں کا بھی امتحان ہے جو شمولیت اور لچک کی بات کرتے ہیں۔ اگر ریاست واقعی چاہتی ہے کہ مدارس کے طلباء ملک کی ترقی میں حصہ لیں، تو اسے دشمنی کے بجائے دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ مدارس کو ‘شک کے دائرے’ سے نکال کر ‘اعتماد کے دائرے’ میں لانا ہوگا۔ جب تک مدارس کو صرف ایک خاص نظر سے دیکھا جائے گا، تب تک تعلیمی اصلاحات کے نام پر ہونے والی ہر کارروائی مشکوک ہی رہے گی۔ عدالت نے انتظامیہ کو آئینہ دکھا دیا ہے کہ آپ کی طاقت کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے شہری کے بنیادی حقوق کی سرحد شروع ہوتی ہے۔
اخیر میں، یہ تحریر ان تمام اربابِ بست و کشاد کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جو نظم و نسق کے نام پر آئینی حدود کو پامال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ مدارس کی بقا ان کی علمی جڑوں میں ہے، اور ان جڑوں کو کاٹنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اگر عدلیہ اسی طرح حق گوئی اور بیباکی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ یہ فیصلہ علم کی جیت ہے، دستور کی فتح ہے اور ان ہزاروں بے آواز طلباء کے مستقبل کا تحفظ ہے جنہیں سیاسی شطرنج کی بساط پر مہرہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مدارس کے منتظمین بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور قانونی پیچیدگیوں سے آگاہی حاصل کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی انتظامی زیادتی کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایک روشن مستقبل کی نوید ہے، جہاں ریاست اور شہری کے مابین تعلق جبر کا نہیں بلکہ باہمی احترام اور آئینی حدود کی پاسداری کا ہوگا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ اس نے ثابت کر دیا کہ جب تک عدل کے ایوانوں میں جسٹس سبھاش ودیارتھی جیسے منصف موجود ہیں، تب تک دستورِ ہند کی شمع کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔
یہ تحریر نہ صرف ایک عدالتی فیصلے کا خلاصہ ہے بلکہ یہ ایک پکار ہے ان لوگوں کے لیے جو خاموشی سے ظلم سہتے ہیں۔ یہ یاد دہانی ہے کہ آزادی مانگی نہیں جاتی، چھینی جاتی ہے یا قانون کے ذریعے محفوظ کی جاتی ہے۔ مدارس کو اپنی شناخت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہی ان کی اصل طاقت ہے۔ ریاست کی لاپرواہی اپنی جگہ، مگر قوم کی بیداری ہی اصل علاج ہے۔ جس طرح الہ آباد ہائی کورٹ نے ان اداروں کو بند ہونے سے بچایا، اسی طرح اب یہ مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار کو اس بلندی پر لے جائیں کہ دنیا ان کی ضرورت اور اہمیت کا لوہا ماننے پر مجبور ہو جائے۔

ٹیگ: Education LawIndia NewsJudicial VerdictmadrasasMinority RightsRight to Educationاقلیتی حقوقتعلیمی قانونریاستی حدودعدالتی فیصلہمدارس حق تعلیم

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

RSS Adhivakta Parishad Courts
مضامین

فائلوں میں نام نہیں، مگر فیصلوں پر چھاپ: آر ایس ایس کی ادھیوکتا پریشد عدالتوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے

20 جنوری
Iran Protests Media Role
مضامین

ایران کے موجودہ حالات: امریکہ اور اسرائیل کے تناظر میں مظاہروں اور میڈیا کا کردار

17 جنوری
Dr Manzoor Alam Benefactor
مضامین

‘محسن ملت’ ہیں ڈاکٹر منظورِ عالم

14 جنوری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Evening News Brief

ایوننگ نیوز: اختصار کے ساتھ

دسمبر 28, 2025
Trump Iran Non-Military Targets

ٹرمپ کا ایران میں غیر فوجی اہداف نشانہ بنانے پر غور: امریکی میڈیا کا دعویٰ

جنوری 11, 2026
پرواز رحمانی تحریکی صحافت

پرواز رحمانی: تحریکی صحافت کے علمبردار

جنوری 10, 2026
طالبان افغان سفارت خانہ دہلی

طالبان سفارت کار نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا چارج سنبھالیں گے، کیا ہیں اشارے ؟

جنوری 10, 2026
Madrasas Right to Education Verdict

مدارس؛ حق تعلیم، ریاستی حدود اور عدالتی فیصلہ

RSS Adhivakta Parishad Courts

فائلوں میں نام نہیں، مگر فیصلوں پر چھاپ: آر ایس ایس کی ادھیوکتا پریشد عدالتوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے

Ahmedabad SIR Muslim Voters

ایسے ہوتا ہے کھیل:احمدآباد میں SIR عمل کے دوران سینکڑوں مسلم ووٹروں کو ‘مردہ’ قرار دیا گیا,۔

امریکا: تاریخ رقم، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی کا قرآن پاک پر عہدے کا حلف

امریکا: تاریخ رقم، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی کا قرآن پاک پر عہدے کا حلف

Madrasas Right to Education Verdict

مدارس؛ حق تعلیم، ریاستی حدود اور عدالتی فیصلہ

جنوری 20, 2026
RSS Adhivakta Parishad Courts

فائلوں میں نام نہیں، مگر فیصلوں پر چھاپ: آر ایس ایس کی ادھیوکتا پریشد عدالتوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے

جنوری 20, 2026
Ahmedabad SIR Muslim Voters

ایسے ہوتا ہے کھیل:احمدآباد میں SIR عمل کے دوران سینکڑوں مسلم ووٹروں کو ‘مردہ’ قرار دیا گیا,۔

جنوری 20, 2026
امریکا: تاریخ رقم، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی کا قرآن پاک پر عہدے کا حلف

امریکا: تاریخ رقم، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی کا قرآن پاک پر عہدے کا حلف

جنوری 20, 2026

حالیہ خبریں

Madrasas Right to Education Verdict

مدارس؛ حق تعلیم، ریاستی حدود اور عدالتی فیصلہ

جنوری 20, 2026
RSS Adhivakta Parishad Courts

فائلوں میں نام نہیں، مگر فیصلوں پر چھاپ: آر ایس ایس کی ادھیوکتا پریشد عدالتوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے

جنوری 20, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN