خراج عقیدت :عدیل اختر
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم طویل عرصے تک صاحب فراش رہنے کے بعد گزشتہ دنوں اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔ ان کے انتقال سے مسلمانان ہند کے درمیان سے کس طرح کا شخص رخصت ہوگیااس کا ادراک کم لوگوں کو ہے۔ جو لوگ ان کی خدمات سے واقف ہیں ان میں بھی کم ہی لوگ ہیں جنھوں نے کھل کر ان کی خدمات کا اعتراف برسر عام کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ”مین آف دی ویژن“یا ”ایک شخص ایک کارواں“ جیسے الفاظ منظور عالم صاحب جیسی شخصیت پر زیب دیتے ہیں۔انھوں نے ملت اسلامیہ ہند کے ایک مخلص دانشور کی حیثیت سے جو کام انجام دئے ہیں وہ اس طرح کے کام ہیں جو قوموں کو استحکام دیتے ہیں اور اپنے دیر پا اثرات رکھتے ہیں۔اور جنہیں انجام دینے کے لئے گہری بصیرت،وسیع فہم، بھرپور لیاقت اور مستقل مزاجی نیز مسلسل سرگرمئی عمل درکار ہوتی ہے۔چنانچہ ڈاکٹر منظور عالم صاحب کا بعد از مرگ ایک مختصر تعارف محض ان کو خراج تحسین نہیں بلکہ ملت کے باشعور لوگوں کی معلومات کے لئے ضروری ہے۔
ڈاکٹرمنظور عالم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروردہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اس دانش گاہ سے نکل کراپنی عملی زندگی کا میدان ملت اسلامیہ ہند کے احیاء نو کو بنایا تھا۔ وہ یونیورسٹی کے ان چند طلباء میں سے تھے جو ۰۷۹۱ کی دہائی میں مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہتے ہوئے تحریک اسلامی کی فکر سے متاثر ہوئے تھے اور ایک فلسفی استادپروفیسر راؤ عرفان علی خاں کی سرپرستی میں اسلام کے نظام زندگی کا مطالعہ اور تربیت حاصل کرتے ہوئے طلباء کے درمیان اسلامی فکر کو فروغ دینے اور اشتراکیت و الحاد سے متاثر یونیورسٹی کی مجموعی فضا کو اسلامی فضابنانے کے لئے سرگرم تھے۔ بعد میں ان ہی طلباء نے ”اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ “ تشکیل دی تھی جوملک گیر سطح پر مسلم طلبہ کی پہلی اسلامی تنظیم بنی۔ چنانچہ ڈاکٹر منظور عالم کی فکراور سرگرمیوں کا اولین محرک ان کا یہی پس منظر تھا۔اسی سلسلے سے وہ دوسرے ممالک میں یا عالمی سطح پر فکر اسلامی کے فروغ کے لئے سرگرم تنظیموں کے رابطے میں آئے اور بین الاقوامی سطح پر ان کے تعلقات قائم ہوئے۔ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ ایسے اسلام پسند نوجوانوں کا ایک عالمی پلیٹ فارم تھا جہاں یہ لوگ ملتے تھے اور اپنے اپنے ملکوں میں معاشرے اور ریاست کی اصلاح کے لئے تبادلہ خیال کرتے تھے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم جیسے لوگ اسی پلیٹ فارم سے ابھر کر اپنے اپنے ملکوں میں قیادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اور، ڈاکٹر منظور عالم اس پلیٹ فارم سے مستفید ہونے والے ہندستانی نوجوانوں میں سب زیاد ہ فعال اور کارگر شخصیت بن کر چمکے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر منظور عالم نے سعودی عرب کے اعلیٰ تعلیمی و انتظامی اداروں میں کئی سال تک تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں اور پھر اپنے ویژن اور مقصد کوبروئے کار لانے کے لئے دہلی میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیزقائم کرکے یہاں مستقل طور سے مقیم ہوگئے۔ یہ ادارہ، جس کے علاقائی چیپٹر بھی کئی ریاستوں میں قائم ہوئے، اپنے مقصد اور طریقہ کار کے لحاظ سے ہندستانی مسلمانوں کے درمیان ایک انوکھا ادارہ بنا جس کا مقصدہندستانی مسلمانوں کی فلاح و بہودکو پیش نظر رکھتے ہوئے تحقیق پر مبنی علمی مواد تیار کرنااور مسائل کو علمی و تحقیقی بنیادوں پر دستاویزی شکل میں سامنے لانااور پھر ان کے حل کے لئے دور رس دانشورانہ تجاویز تیار کرنا تھا۔ اس ادارے کے قیام میں ڈاکٹر منظور عالم کے ساتھ ان کے متعدد فکری اور تحریکی ساتھی شامل تھے جن میں سے کچھ لوگوں نے بعدمیں اپنے الگ ادارے قائم کئے۔ لیکن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی طرح کوئی مستحکم اور پائدار ادارہ دوسرا نہیں بنااور ابھی تک بھی مسلمانان ہند میں اس جیسا کوئی دوسرا مثالی ادارہ موجود نہیں ہے۔ڈاکٹر منظور عالم صاحب کے اندر لوگوں کی صلاحیتیوں کو پہچاننے، ان کو جوڑنے اور ان سے کام لینے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔ یہ ان کی خاص خوبی تھی کہ وہ مختلف میدانوں کے بڑے، درمیانی اور چھوٹے تمام مرتبوں اور لیاقت والے لوگوں سے تعلق رکھنے اور انہیں برتنے کا ہنر جانتے تھے۔ان کے حلقہ احباب اور اہل کاروں میں متنوع اور باہم مختلف افراد کا مجمع تھا۔اپنی ان گوناگوں صلاحیتوں اورحرکیت کی بدولت انھوں نے نہ صرف انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے پلیٹ فارم سے بڑے بڑے تحقیقی منصوبے پورے کئے،متعدد اور متنوع موضوعات پر سمپوزیم، سیمنار اور کانفرنسیں منعقدکرکے دانشورانہ افکار و مباحث کو فروغ دیا بلکہ اسی کی بدولت کئی دوسرے ادارے قائم کرنے کا بھی ذریعہ بنے۔ جن میں سب سے نمایاں اور وقیع ادارہ اسلامی فقہ اکیڈمی ہے۔ یہ ادارہ مختلف مسلکوں اور حلقوں کے علماء و فقہاء کو ایک پلیٹ فارم پرلانے اور معاملات ومسائل میں اجتماعی غور و فکراور اجماعی شرعی حکم طے کرنے کے لئے قائم ہوا۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کے بانی سربراہ قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب تھے اور عام طور سے ان کو فقہ اکیڈمی کا موسس سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس ادارے کے بنیادی ستون ڈاکٹر منظور عالم صاحب تھے جنھوں نے قاضی صاحب کے ساتھ مل کر اس ادارے کو قائم کیا اور اس کے مقاصد، پالیسیوں اور طریقہ کار کی تعیین کی تھی اور انہی خطوط پر یہ اداہ آج تک چل رہا ہے۔
اس کے علاوہ آل انڈیا ملی کونسل بھی ڈاکٹر منظور عالم کے ویژن اور کاوشوں نیز ان کے ذریعہ فراہم وسائل سے تشکیل پائی تھی۔ یہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے تمام مسلم قائدین کے ایک متبادل اجتماعی پلیٹ فارم کے طور پر بنی تھی اگرچہ بعد میں اس کو چلانے کا پورا بار منظور عالم صاحب ہی کاندھوں پر رہ گیا اور ناقدین اسے ان کی نجی تنظیم کہنے لگے۔ ان کے قائم کردہ دیگر اداروں میں دعوت دین کے لئے یونیورسل پیس فاؤنڈیشن، میڈیا کے میدان میں مسلم نوجوانوں کو لانے کے لئے یونائٹیڈ ماس میڈیا ایسوسی ایشن، مسلم پروفیسروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹس اور کئی دیگر ادارے شامل ہیں جن میں سے بعض اب غیر فعال ہیں اور بعض کسی حد تک اپناکام انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر منظورعالم ان تمام تنظیموں کے روح رواں تھے، مگران کی یہی فعالیت اور خود مرکزیت ان کے ابتدائی ساتھیوں کے بکھرجانے اور کچھ اداروں کے غیر فعال ہونے کا بھی سبب بنی۔ انسانی کاوشیں نقص و عیب سے کبھی مبرا نہیں ہوتیں چنانچہ منظور عالم صاحب کے ناقدین کی بھی کمی نہیں ہے لیکن اپنی خوبیوں اور مبینہ خامیو ں کے باوصف انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسڈیز سے انھوں نے جو کام کئے ہیں ان کی وقعت کا اعتراف ہر وہ شخص کرے گاجو ان کاموں سے واقف ہو اور ان کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہو۔
اوقاف کے مسائل سے لے کر مسلمانوں کی عام درماندگی اور محرومی تک انھوں نے متعدد موضوعات کو فکر و تحقیق کا عنوان بنایا اور ملک کے پالیسی ساز اداروں کوان کی طرف متوجہ کرنے کا کام کیاہے۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ کسی اہم سلگتے مسئلہ پر پہلے وہ خود سوچتے تھے، پھر انسٹی ٹیوٹ کی مجلس شوریٰ میں اس پر اجتماعی غور ہوتا تھا اورپھر موضوع پر پہلے ایک عمومی تبادلہ خیال اور مذاکرے کے لئے سیمنارمنعقد کرتے۔ اس سیمنار میں جو مختلف پہلو ابھر کرآتے ان پر تحقیقی موادتیار کرنے کا فیصلہ لیا جاتا اور اس موضوع کے ماہرین کو یہ کام تفویض کیا جاتا۔ اس طرح بہت سے طویل مدتی منصوبے بنے اور بروئے کار آئے۔ گزشتہ پچیس تیس سالوں میں انجام پانے والے ان منصوبوں میں جو خاص طور سے قابل ذکر ہیں وہ ہیں مسلمانوں کے ایمپاورمنٹ سے متعلق الگ الگ پہلوؤں پر متعدد تحقیقی کتابوں کی سیریز، ہندستان کی جدو جہد آزادی میں مسلمانوں کا رول عنوان سے چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل دستاویزی کتب، دنیا بھر میں مسلمانوں کی مختلف برادریوں اور نسلوں کا جامع تعارف جو چھ جلدوں میں مکمل ہوا۔ہندستان کے سیاسی اور اقتصادی میدانوں سے مسلمانوں کی بے دخلی کے موضوع پر ایک وقیع اور ضخیم تحقیقی کتاب، ملک بھر میں پھیلے دینی مدارس کا ایک جامع انڈیکس وغیرہ۔ اس طرح کی دستاویزی کتابوں اور تحقیقی مواد کا فائدہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لئے یہ مثال کافی ہے کہ جسٹس سچرکمیٹی کو مسلمانوں کی پسماندگی کی حالت پر رپورٹ تیار کرنے کے لئے جب حقائق پر مبنی مواد کی تلاش ہوئی تودیگر سرکاری اور غیر سرکاری سرووں و رپورٹوں کے علاوہ مسلمانوں کی طرف سے جو کچھ اسے ملا اس میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔اسی طرح وقف سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کے وضع کرنے میں آئی اوایس کی کانفرنسوں اور اشاعتی مواد سے استفادہ کیاگیا۔سرکاری پالیسیوں کاجائزہ اور ان پر تنقید آئی او ایس کاایک مستقل کام رہا۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر منظور عالم مسائل پر خاموشی اور سنجیدگی سے سوچتے تھے اور تدبیر کے ساتھ دور رس و موثر نتائج والے لائحہ عمل بناتے تھے۔ دستورکی تفہیم اور قانونی بیداری کے لئے بھی انسٹی ٹیوٹ سے مستقل سرگرمیاں انجام دی جاتی رہیں۔اس حوالے سے ماہرین قانون کے لیکچرز کا ایک مستقل سلسلہ آئی اوایس میں لگاتار جاری رہا۔ اس ضمن میں ایک قانونی جرنل بھی آئی او ایس سے مستقل شائع ہوتا رہا ہے۔انسانی حقوق کے موضوع پر بھی ایک جرنل کئی سال تک پابندی سے شائع ہوتا رہا جس کے ایڈیٹر حقوق انسانی کے مشہور کارکن پروفیسر اقبال انصاری تھے۔ دراصل ہرمیدان کے لائق و فائق افراد کو ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے کام کرنے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کیا۔وہ ہر فرد سے مثبت کام لیتے تھے اور اس مقصد کے لئے اس کی کمزوریوں و خامیوں کو نظر اندازکرتے اور تحمل و برداشت سے کام لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ سیکڑوں لوگ جڑے رہے اور الگ الگ میدانوں میں اپنی صلاحیتوں سے تعاون دیتے رہے۔
ملی کاؤنسل کے پلیٹ فارم سے انھوں نے عوامی بیداری اور عوامی نمائندگی کا کام لیا۔ ملی کاؤنسل کی کچھ حصولیابوں میں سے یہ با ت خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ بدنام زنامہ ٹاڈا قانون کے خلاف مسلمانوں میں سب سے پہلی اور موثرآواز ملی کاؤنسل نے اٹھائی تھی۔ ایسے متعدد مواقع گزرے ہیں جب سراسیمگی اور خوف کے اس عالم میں کہ کوئی کچھ بولنے کی ہمت نہ کرتا تھاڈاکٹر منظور عالم صاحب کی پہل پر ملی کاؤنسل کے بینر تلے سرکاری جلسہ گاہوں میں موثر اجلاس منعقد ہوئے۔ الغرض ڈاکٹر منظور عالم اپنے آپ میں ایک انجمن نہیں بلکہ ایک کارواں تھے۔ وہ صحیح معنی میں ایک ”مین اٖ ٓف دی ویژن“ تھے۔ وہ مخالفین و ناقدین کے ساتھ تکرار اور مخاصمت سے بچتے تھے اور اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ وہ اتحاد ملت کے علم بردار تھے اور گروہی اور مسلکی عصبیتوں سے بلند تھے۔ انھوں نے ملت کے معاملات میں ملت کی اجتماعی سوچ کی نمائندگی کی اور ذاتی یا تنظیمی مفاد کے لئے سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں سے ملت کے مفاد کا سودا کرنے کا الزام ان پر کبھی نہیں لگا۔سیاسی لیڈروں اور حکمرانی کے اداروں میں ان کی رسائی و عزت تھی اور وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ ا ور بڑے بڑے وزراء ان کے بلاوے پر پروگراموں میں آتے رہے لیکن انھوں نے اپنے مشن اور کام سے ہٹ کر کوئی عہدہ اور مرتبہ حاصل کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔دوسری طرف دین و ملت کے مفاد میں قابل قدر خدمات انجام دینے والی شخصیات کی قدر افزائی کا کام انھوں نے کیا۔اس کے لئے انھوں نے شاہ ولی اللہ ایوارڈ جاری کیاجو بجا طور پر مستحق شخصیات کو دیا جاتا رہا ہے۔
ڈاکٹر منظور عالم صاحب کی ان تمام کاوشوں کے پیش نظر یہ کہاجاسکتا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند اپنے ایک مخلص خادم سے محروم ہوگئی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جو ادارے اور شخصیات ان کی گراں قدر خدمات سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں اور ان کے مرہون کرم رہے ہیں وہ بعد از مرگ ہی سہی، ان کی خدمات کا اعتراف کریں اور انہیں اعزاز دینا ان کاحق سمجھیں۔ ٭٭٭












