بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی 23 جون 1953 کو جموں وکشمیر کی ایک جیل میں موت ہو گئی تھی ۔ 33 سال کی عمر میں شیاما پرساد مکھرجی 1934 میں کولکاتا یونیورسٹی کے سب سے کم عمر کے وائس چانسلر بنے تھے۔ سال 1947 میں انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھ کر بنگال تقسیم کی مانگ کی تھی۔
سال 1947 میں پنڈت نہرو کی قیادت میں بنی پہلی کابینہ میں شیاما پرساد مکھرجی کو وزیر بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں جموں وکشمیر کے مدعے پر انہوں نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مکھرجی ’ایک راشٹر،ایک ودھان ، ایک نشان ‘ کا نعرہ دیتے ہوئے سال 1953 میں بغیر اجازت کے جموں وکشمیر پہنچے تھے، جہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ گرفتاری کے 40 دنوں بعد جیل میں ہی ان کی موت ہوگئی تھی۔ ان کی موت پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے سوال کھڑا کیا تھا اور اس کے لیے سرکار کو ذمہ دار بتایا تھا ۔
مکھرجی کی والدہ جوگمایا دیوی نے بھی اس وقت کے وزیر اعظم نہرو کو خط لکھ کر جانچ کی مانگ کی تھی، لیکن اس کے جواب میں نہرو نے کسی بھی طرح کی سازش سے انکار کرتے ہوئے ان کی موت کو فطری موت قرار دیا۔
مکھرجی نے1946میںبنگال کی تقسیم کی مانگ کی تھی تاکہ مسلم اکثریت مشرقی پاکستان میں اس کے ہندو- اکثریتی علاقوں کو شامل کرنے سے روکا جاسکے۔ اسی سلسلے میں مئی 1947 میں شیاما پرساد مکھرجی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ایک خط لکھ کر کہا تھاکہ بھلے ہی بھارت کی تقسیم نہ ہو، لیکن بنگال کی تقسیم ہونا چاہئے۔انہوں نے 1947 میں سبھاش چندر بوس کے بھائی بھارت بوس اور بنگالی مسلم سیاسی رہنماحسین شہید سہروردی کے ذریعہ کی گئی مشترکہ آزاد بنگال کی مانگ کی بھی مخالفت کی تھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی کے ذریعہ قائم بھارتیہ جن سنگھ ہی بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قیام کی بنیاد بنی، حالانکہ ایمرجنسی کے دوران بھارتیہ جن سنگھ کا جنتا پارٹی میں انضمام کر دیا گیا تھا، لیکن سال 1980 میں جب جنتا پارٹی کا زوال شروع ہونے لگا تو جن سنگھ سے وابستہ لیڈروں نے بھارتیہ جنتا پارٹی قائم کی۔










