ایران کے IRGC نے آپریشن ٹرو پرومیس 4 کے 19ویں مرحلے میں خرمشہر-4 میزائلوں کا آغاز کیا۔ یہ میزائل، جن میں سے ہر ایک میں 1 ٹن وارہیڈ تھا، صبح کے وقت تل ابیب، بن گوریون ہوائی اڈے، اور اسرائیلی فضائیہ کے ایک اڈے کے مرکز میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ میزائل اسرائیل کے سات پرتوں والے فضائی دفاع میں داخل ہوئے۔ اس سے قبل 18ویں مرحلے میں بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں 20 امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے تھے۔
تہران:ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے آج صبح ایک بڑا حملہ کیا، آپریشن سچا وعدہ 4 کے 19ویں مرحلے میں، تل ابیب کے مرکز، بن گوریون ہوائی اڈے، اور وہاں اسرائیلی فضائیہ کے 27ویں سکواڈرن بیس پر بھاری خرمشہر-4 میزائل داغے۔
یہ میزائل 1 ٹن وار ہیڈز سے لیس تھے اور انہیں آئی آر جی سی نے "یا حسن ابن علی” کے نام سے لانچ کیا تھا۔ یہ میزائل حملہ آور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے اور اسرائیل کے سات پرتوں والے فضائی دفاع میں گھس گئے۔
***18ویں مرحلے میں امریکی اڈوں پر حملہ
آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل 18ویں مرحلے میں ایران نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں 20 امریکی فوجی اڈوں پر کامیابی سے حملہ کیا تھا۔ ایرانی فوج نے کہا کہ امریکی فوجی خوفزدہ ہو کر اپنے اڈوں سے فرار ہو گئے اور ہوٹلوں میں چھپ گئے۔ امریکی فوج اب خلیج فارس کے ممالک میں شہری عمارتوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ تاہم آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس اس سب کی نگرانی کر رہی ہے۔ ایرانی فوجی امریکی فوجیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
**خرمشہر 4 میزائل کی خصوصیات
خرمشہر-4، جسے خیبر میزائل بھی کہا جاتا ہے، ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل (MRBM) ہے جسے سڑک پر نصب لانچر سے لانچ کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 13 سے 13.5 میٹر، قطر 1.5 سے 1.8 میٹر اور وزن 15,000 سے 20,000 کلوگرام ہے۔ اس میں 1,800 کلوگرام تک پے لوڈ کی گنجائش ہے۔یہ میزائل ایک ٹن سے زیادہ وزنی دھماکہ خیز وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔ یہ مائع ایندھن پر چلتا ہے اور اس کی رینج 2,000 سے 3,000 کلومیٹر ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ 2000 کلومیٹر دور سے بھی 30 میٹر کے اندر موجود اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
***میزائل کی تیاری اور رفتار
خرمشہر-4 کو لانچ کرنے میں صرف 15 منٹ لگتے ہیں۔ یہ ہوا میں 19,757 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں 9,878 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ میزائل میں متعدد وار ہیڈز لگائے جاسکتے ہیں جو 80 چھوٹے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وار ہیڈ آخری لمحات میں الگ ہو جاتا ہے اور اتنی تیز رفتاری سے گرتا ہے کہ دشمن کے فضائی دفاع اسے روک نہیں سکتے۔
**جنگ کا توازن کیسے بدلا
آئی آر جی سی نے کہا کہ ایران کی فوج کے مختلف حصوں نے امریکہ اور اسرائیل کی توقعات سے بڑھ کر منصوبہ بندی کی ہے۔ جنگ اب کئی محاذوں پر پھیل رہی ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی دفاع سے مکمل طور پر بچ رہے ہیں۔ اس میزائل حملے نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر تناؤ پیدا کر دیا ہے۔








