نئی دہلی: بھارت۔ کے سراغ رساں ادارے ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ یا را کے سابق سربراہ وکرم سود کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران پر کیے حملے میں اپنی حکمت عملی کھو چکا ہے اور یہ جنگ ابتدائی اندازوں کے برعکس مختصر مدت میں ختم ہونے کے بجائے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے این آئی کے ساتھ گفتگو میں وکرم سود نے کہا کہ یہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے کیونکہ امریکیوں کا ابتدائی خیال تھا کہ وہ آئیں گے، تباہی پھیلائیں گے اور چلے جائیں گے لیکن ایرانی ایک الگ قسم کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
•••امریکیوں نے غلط اندازہ لگایا
وکرم سود نے کہا کہ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ جنگ کب تک چلے گی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ اس سے زیادہ دیر تک کے لیے چل سکتی ہے جس کا اندازہ امریکیوں نے لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اتحادیوں کے لیے جنگ کو مشکل بنا دیا ہے۔ایرانی ایک نیا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ اپنی قوت اور استطاعت کے مطابق کھیل رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے اتحادیوں اور ان کی صلاحیتوں کو تباہ کررہے ہیں۔ جس سے ان اتحادیوں میں امریکہ کے خلاف ایک بے چینی پھیل پھیل گئی ہے
***موت سے ڈرتے ہیں امریکی
یہ یاد رکھیے کہ ایرانی مرنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں۔ اس کے برعکس امریکی، ایران کی سرزمین پر مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکی اپنے ملک میں تابوت پہنچنے کے خیال سے ہی حواس باختہ ہیں۔ اسی لیے امریکی اس جنگ کو صرف ہوائی حملوں یا میزائل حملوں تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔
**زیادہ دنوں تک چل سکتی ہے جنگ
ان کے مطابق اس حکمت عملی سے فوری طور کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی لیے یہ جنگ ابتدائی اندازوں کے برعکس زیادہ دیر تک چل سکتی ہے۔ سابق را چیف وکرم سود کا کہنا ہے کہ ایران نے ہمارے اتحادیوں کے لیے جنگ کو مشکل بنا دیا ہے۔سورس:سی ٹی وی بھارت’



