ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی جانب سے خطے کے پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں پر معذرت کر لی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ تہران ان حملوں کو روک دے گا اور انہوں نے بتایا کہ یہ حملے فوجی رینکس میں ’مس کمیونیکیشن‘ کی وجہ سے ہوئے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان سنیچر کی صبح بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر متعدد بار ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’میں اُن ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران نے حملہ کیا۔‘انہوں نے بتایا کہ عبوری قیادت کی کونسل نے اس فیصلے کی منظوری دی ہے کہ پڑوسی ممالک پر حملے عارضی طور پر معطل کیے جائیں گے
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ایک ’ایسا خواب ہے جسے انہیں اپنی قبر تک لے جانا چاہیے۔‘
دوسری جانب فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں کا حملوں کوروکنے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔







