تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے متعدد ویڈیوز جاری کرنا پڑیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین اب بھی ان کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 12 مارچ کو ایران کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کے ہلاک ہونے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس کے فوراً بعد نیتن یاہو نے ایران کے سپریم لیڈر کو دھمکیوں سے بھرے ایک ویڈیو بیان میں جواب دیا، جس میں ان کے ہاتھوں میں بظاہر چھ انگلیاں نظر آئیں۔ اس منظر نے ویڈیو کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار شدہ قرار دینے کا سبب بنایا۔مزید برآں ہفتے کے روز اسرائیل کی سکیورٹی میٹنگ اور میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم کے غیر حاضر ہونے کے بعد افواہوں میں شدت آگئی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ اس کے جواب میں نیتن یاہو کے دفتر نے تمام افواہوں کو مسترد کیا۔
گذشتہ روز نیتن یاہو نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک نئی ویڈیو جاری کی جس میں وہ ایک کیفے سے کافی لیتے ہوئے نظر آئے، عبرانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں کافی پر مرگیا ہوں اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دکھائے تاکہ واضح ہو کہ ان کے کُل دس انگلیاں ہیں۔تاہم ویڈیو میں کافی کا کپ لبالب بھرا ہونے کے باوجود اور بار بار ہاتھ ہلانے کے باوجود کافی میں کوئی کمی نہ ہونا اور بعض صارفین کے مطابق کیفے پہلے ہی بند ہونا، سوشل میڈیا پر شک کو بڑھا گیا۔
اس کے بعد نیتن یاہو نے تیسری ویڈیو شیئر کی جس میں وہ کسی تفریحی مقام پر موجود ہیں اور وہاں لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو پر بھی صارفین نے سوالات اٹھانا جاری رکھا اور بعض نے کہا کہ نیتن یاہو حقیقت میں مارے جا چکے ہیں اور یہ سب اے آئی سے بنائی گئی ویڈیوز ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے تاحال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کے بارے میں مزید وضاحت نہیں دی، یہ واضح ہے کہ عوام میں شکوک و شبہات موجود ہیں اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔
٭٭ایرانی حملوں میں تین ہزار سے زائد زخمی، 14 ہلاک: اسرائیل
تل ابیب: اسرائیل کی وزارت صحت اسرائیل نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر سے ایران کی جانب سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم تین ہزار تین سو 69 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
٭زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف جاری جنگ اس ہفتے ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کو ’تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہاں، بالکل‘۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ واقعی اس ہفتے ختم ہو جائے گی تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘
٭٭ایران پر امریکہ,اسرائیل کا حملہ نیٹو کی جنگ نہیں: برطانوی وزیر
برطانوی وزیر برائے ورکس اور پنشن کے پیٹ مِک فیڈن کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دفاعی اتحاد کا قیام ’اس قسم کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا جیسی ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔‘انھوں نے موجودہ تنازع کو ’نیٹو جنگ نہیں‘ بلکہ ’امریکی اور اسرائیلی کارروائی‘ قرار دیا۔
٭٭امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی، سروے
امریکا میں ایران جنگ کےدوران اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے ایران جنگ کے دوران ایک نئے سروےکا انعقاد کیا، سروے میں بتایا گیاکہ 39 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل سے متعلق 32 فیصد لوگوں کی رائے مثبت ہے۔سروے کے مطابق تین سال پہلے صورتحال مختلف تھی جب 47 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں مثبت جبکہ 34 فیصد منفی رائے رکھتے تھے
٭٭اب تک جنگ میں استعمال ہونے والی ایران کی میزائلیں
٭٭سیجل – 2 میزائل: تقریباً 2000 کلومیٹر رینج، دو مرحلوں والی ٹھوس ایندھن کی بیلسٹک میزائل۔
٭٭فتاح – 1 میزائل: ایران کی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل، تقریباً 1400 کلومیٹر رینج اور ایئر ٭ڈیفنس سے بچنے کی صلاحیت۔
خیبر شکن میزائل : تقریباً 1450 کلومیٹر رینج، ٹھوس ایندھن والی درمیانی فاصلے کی بیلسٹک میزائل جو آخری مرحلے میں دفاعی نظام سے بچنے کے لیے راستہ بدل سکتی ہے۔
٭٭حاج قاسم: تقریباً 1400 کلومیٹر رینج، زیادہ درستگی کے لیے تیار کی گئی نئی نسل کی میزائل۔
Dezful: تقریباً 1000 کلومیٹر رینج، فتح خاندان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل۔
Zolfaghar: تقریباً 700 کلومیٹر رینج، تیز ردِعمل اور کم وارننگ ٹائم والی میزائل۔
Qiam-1: تقریباً 800 کلومیٹر رینج، مائع ایندھن والی قلیل فاصلے کی بیلسٹک میزائل۔
شہاب میزائل: پرانا مگر اب بھی استعمال ہونے والا بیلسٹک نظام۔
٭٭عماد / غدر میزائل: درمیانی فاصلے کی طویل رینج بیلسٹک میزائلیں۔
٭پرویہ کروز میزائل: زمین سے داغی جانے والی کروز میزائلیں۔







