ڈنمارک میں اسلامی اذان (Call to Prayer) پر ملک گیر پابندی عائد کرنے کی تجویز ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ وزیرِ امیگریشن مورٹن بوڈسکوف نے کہا ہے کہ ڈنمارک میں عوامی مقامات پر اذان کی آواز نہیں گونجنی چاہیے اور ملک کو ایسا محسوس نہیں ہونا چاہیے جیسے وہ "اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ” بن گیا ہو۔
مورٹن بوڈسکوف کا کہنا تھا کہ ملک میں بتدریج بڑھتی ہوئی "اسلامائزیشن” عوامی مقامات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اذان کی آواز ڈنمارک کی چھتوں پر نہیں سنائی دینی چاہیے۔ ڈنمارک میں چلتے ہوئے کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں آ گیا ہے۔”
ڈنمارک کے بعض علاقوں میں پہلے ہی شور سے متعلق بلدیاتی قوانین کے تحت لاؤڈ اسپیکر پر اذان نشر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دارالحکومت کوپن ہیگن کی گرینڈ مسجد بھی انہی ضوابط کے باعث بیرونی لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نشر نہیں کرتی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈنمارک میں اسلامی روایات سے متعلق سخت قانون سازی زیرِ بحث آئی ہو۔ رواں سال حکومت نے عوامی مقامات پر مکمل نقاب (نقاب) پہننے پر پابندی برقرار رکھی، جبکہ تعلیمی اداروں میں مخصوص نماز کے کمروں کو ختم کرنے سے متعلق اقدامات بھی قانون سازی کا حصہ رہے ہیں۔











