آپ کا متن صرف غیر ضروری لائن بریکس اور اسپیسنگ کی وجہ سے بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کوئی الفاظ یا مفہوم تبدیل نہیں کیا، صرف جملوں کو مسلسل کر دیا ہے، غیر ضروری اسپیس ختم کی ہے، اوقاف (، ۔ 🙂 درست کیے ہیں، اور پیراگراف صاف کر دیے ہیں۔
تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو وقت اور مقام کی حدود سے بلند ہو کر آفاقی پیغام بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی ایک ایسی ہی عظیم اور لازوال حقیقت ہے جس نے حق و باطل، عدل و ظلم اور حریت و جبر کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک واضح امتیاز قائم کر دیا۔ ۱۰ محرم الحرام 61 ہجری کو نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے جس عظیم قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ محض ایک معرکہ یا سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ انسانی وقار، دینی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے تحفظ کی ایک بے مثال جدوجہد تھی۔
کربلا: حق کی سربلندی کا عنوان
حضرت امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت اور اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانی دے کر امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیا کہ باطل قوتوں کے سامنے خاموش رہنا اہلِ حق کا شیوہ نہیں۔ آپؓ نے یہ ثابت کر دیا کہ اصولوں کی حفاظت کے لیے اگر جان بھی قربان کرنی پڑے تو یہ سودا خسارے کا نہیں بلکہ ابدی کامیابی کا ہے۔
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔
واقعۂ کربلا نے اسلام کی حقیقی روح کو محفوظ رکھا اور آنے والی نسلوں کے لیے ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق پر استقامت کی روشن مثال قائم کی۔
فلسفۂ تسلیم و رضا
امام حسینؓ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے کامل سپردگی کا نمونہ ہے۔ یہی کیفیت اس فارسی شعر میں مؤثر طور پر بیان ہوئی ہے:
"کشتگانِ خنجرِ تسلیم را،
ہر زماں از غیب جانے دیگر است۔”
جو لوگ رضائے الٰہی کے لیے اپنی خواہشات اور مفادات قربان کر دیتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ ہر پل، ہر لمحہ نئی زندگی، نئی روحانی قوت، نئی بصیرت اور نیا نور عطا فرماتا ہے۔ کربلا اسی تسلیم و رضا کی معراج کا نام ہے۔
نوجوان نسل اور پیغامِ حسینؓ
آج کا نوجوان فکری انتشار، اخلاقی چیلنجز اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیرتِ حسینؓ اسے عزم و ہمت، کردار اور استقامت کا درس دیتی ہے۔
ابھی انسان کو بیدار تو ہونے دو،
ہر قوم پکار اٹھے گی، ہمارے ہیں حسینؓ۔
واقعۂ کربلا نوجوانوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ:
- حق اور انصاف کے لیے ہمیشہ آواز بلند کریں۔
- ظلم اور ناانصافی کے سامنے مجرمانہ خاموشی اختیار نہ کریں۔
- کردار، دیانت اور عزم و ہمت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔
- علم، شعور اور اخلاقی قوت کے ذریعے معاشرے میں انقلابی تبدیلی لائیں۔
- ذاتی مفادات پر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں۔
قرآن اور کربلا کا پیغام
قرآنِ کریم اہلِ ایمان کو حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"اور تم کمزور نہ پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔”
(سورۃ آلِ عمران: 139)
یہ آیت واقعۂ کربلا کے پیغام کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے کہ ظاہری شکست کے باوجود حق ہمیشہ سربلند رہتا ہے۔
امام حسینؓ کا تاریخی پیغام
حضرت امام حسینؓ کا یہ مشہور ارشاد آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے:
"میں امتِ محمدیؐ کی حفاظت اور مدافعت کے لیے جان و مال سب کچھ نثار کر رہا ہوں۔”
یہ مختصر ارشاد واضح کرتا ہے کہ آپؓ کی جدوجہد اقتدار کے لیے نہیں بلکہ دین کی حفاظت، عدل کے قیام اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے تھی۔
الحاصل، امام حسینؓ کی شہادت تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو انسان کو حق، حریت، عدل اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والے افراد بظاہر تنہا بھی ہوں تب بھی تاریخ میں کامیاب اور زندہ رہتے ہیں، جبکہ ظلم و جبر کی طاقتیں وقتی طور پر غالب نظر آنے کے باوجود بالآخر مٹ جاتی ہیں۔
آج عالمِ اسلام طاغوتی اور دجالی طاقتوں کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔ شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم واقعۂ کربلا کو محض ایک تاریخی یادگار کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور امتِ مسلمہ کی زندگی میں نافذ کریں۔ یہی امام حسینؓ سے حقیقی محبت اور عقیدت کا تقاضا ہے اور یہی بقائے ایمان و انسانیت کا راستہ ہے۔ یہی امتِ محمدیؐ کی کامل سربلندی کا فارمولا ہے۔
امام حسینؓ زندہ باد
اسلام زندہ باد
اللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا محمد و علیٰ آلِ سیدنا محمد وبارک وسلم۔
سلامٌ دائمٌ قائمٌ سرمداً ابداً یا رسول اللہ۔
ادنیٰ امتیِ محمد
محمد قطب الدین ابو شجاع
شکاگو، امریکہ











