نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور اس کے بانی ابھجیت ڈپکے کو جمعہ، 16 اکتوبر کو دہلی کے کنّوٹ پلیس واقع سینٹرل پارک میں احتجاج کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے دہلی پولیس کی اس یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیا کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور اجتماع کو منظم کرنے کے لیے قانون کے تحت تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
جسٹس نیتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل بنچ ایک لائسنس یافتہ دکاندار کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ تہواروں کے موسم اور ہفتے کے آخر میں احتجاج کے باعث کنّوٹ پلیس میں کاروبار، دکانداروں اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دکاندار نے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ کنّوٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں احتجاج کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ اس سے علاقے میں کاروباری سرگرمیاں اور عوامی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے CJP کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کی یقین دہانی ریکارڈ کرتے ہوئے احتجاج پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم نہیں دیا۔
16 اکتوبر کو ترنگا احتجاج کی اپیل
CJP کے بانی ابھجیت ڈپکے نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو قومی پرچم کے ساتھ سینٹرل پارک میں جمع ہوں۔ منتظمین نے اس اجتماع کو ترنگا احتجاج قرار دیا ہے۔ اس کا مقصد حالیہ مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا بتایا گیا ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دہلی میں جَنتر منتر پر مظاہروں کی اجازت اور احتجاج کے لیے متبادل مقامات کی دستیابی پر تنازع جاری ہے۔ CJP نے الزام لگایا ہے کہ مظاہرین کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے اپنے اقدامات کو امن و امان اور عوامی تحفظ کے تناظر میں درست قرار دیا ہے۔
سورو داس اور اشوتوش رنکا کی حراست کا معاملہ
CJP کے کارکن سورو داس اور اشوتوش رنکا کو جَنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملے میں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ دونوں نے جَنتر منتر کے علاقے میں داخل ہو کر پابندیوں اور پہلے دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب CJP کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی احتجاج کرنے کے حق کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
دہلی پولیس نے جَنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے بعد وہاں مظاہروں کی اجازت سے متعلق سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں احتجاجی تنظیموں اور حکام کے درمیان تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔











