پشاور: پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں جمعرات کو ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ حادثہ صبح کے وقت کلاسیں جاری ہونے کے دوران پیش آیا، جس کے بعد امدادی کارکنوں نے ملبے میں پھنسے طلبہ کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے آپریشن کیا۔ درجنوں بچے زخمی بھی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
یہ حادثہ پشاور کے علاقے افریدی آباد میں واقع الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، عمارت کی اوپری منزل کی چھت گرنے سے نیچے کی کلاسوں کی چھتیں بھی منہدم ہوگئیں اور دو منزلوں کو شدید نقصان پہنچا۔
عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا، پولیس کا بیان
پشاور پولیس کے سربراہ میاں سعید احمد کے مطابق، عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور چھت پر اضافی تعمیراتی بوجھ پڑنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے عمارت کی حالت اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم، حادثے کی حتمی وجہ اور ممکنہ غفلت کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
درجنوں بچے زخمی، امدادی کارروائی مکمل
ریسکیو اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے ملبے سے بچوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
مختلف میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد میں فرق سامنے آیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، کم از کم 32 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوئے، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 34 بچوں اور ایک ٹیچر کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ زخمیوں کی تعداد بھی مختلف رپورٹس میں 45 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق، ملبے سے پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے کارروائی جاری رہی۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ ملبے سے تلاش اور امدادی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔
والدین نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا
حادثے کے بعد اسکول کے باہر والدین اور اہل خانہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ کئی خاندان اپنے بچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسپتالوں اور جائے حادثہ پر پہنچے۔ متاثرہ خاندانوں نے عمارت کی حالت اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق، اسکول ایک گنجان آباد علاقے میں واقع تھا جہاں تنگ گلیوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آسکتی تھیں۔ حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات اور عمارت کی تعمیر و حفاظت سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومت نے تحقیقات اور حفاظتی اقدامات کی ہدایت دی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے اور امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی اور صوبے کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا حفاظتی آڈٹ کرانے کی ہدایت دی، تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے ضروری اصلاحی اقدامات کیے جاسکیں۔
اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت پر پھر سوالات
پاکستان میں غیر محفوظ عمارتوں اور تعمیراتی معیار پر عمل درآمد کے حوالے سے پہلے بھی خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ رواں سال لاہور میں ایک خستہ حال عمارت میں قائم ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے بچوں کی ہلاکت کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔
پشاور کا تازہ حادثہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ، تعمیراتی معیار اور بچوں کی حفاظت کے ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کیسے یقینی بنایا جائے۔ حکام کی تحقیقات سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ آیا اس حادثے میں تعمیراتی کمزوری، اضافی بوجھ، دیکھ بھال میں غفلت یا دیگر عوامل نے کردار ادا کیا۔











