واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے متعلق نئے امریکی ٹیرف اور پابندیوں کے بعض اہم ضوابط پر عمل درآمد سے عارضی چھوٹ دے دی ہے۔ اس فیصلے سے بھارت اور چین جیسے بڑے خریداروں کو فی الحال ممکنہ طور پر 100 فیصد تک اضافی امریکی ٹیرف کے خطرے سے راحت ملی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی میں رسد اور قیمتوں کے حوالے سے دباؤ برقرار ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ایگزیکٹو آرڈر میں کہا کہ موجودہ حالات میں ان اقدامات سے چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ یہ ضوابط روس سے متعلق امریکی قانون کے تحت نافذ ہونے والے تھے، جس کا مقصد یوکرین جنگ کے پس منظر میں ماسکو کی آمدنی پر دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم، نئی چھوٹ کا مطلب یہ نہیں کہ روس پر پہلے سے نافذ تمام امریکی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
بھارت پر 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ کیسے ٹلا؟
امریکی قانون Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026 کے تحت صدر کو اختیار دیا گیا تھا کہ روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں اور بعض دیگر ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکیں۔ بھارت بھی روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، اس لیے اسے خدشہ تھا کہ امریکی کارروائی سے اس کی برآمدات اور واشنگٹن کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے متعلقہ ضوابط پر چھوٹ دینے کے بعد فی الحال اس نئے ٹیرف کا خطرہ کم ہوا ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے چھوٹ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی ضمانت نہیں دی؛ ان کی انتظامیہ مستقبل میں حالات کے مطابق دوبارہ کارروائی کر سکتی ہے۔
بھارت روس سے کتنا تیل خریدتا ہے؟
بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ روس نے یوکرین پر حملے کے بعد رعایتی قیمتوں پر تیل فراہم کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریوں نے روسی خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا۔
روسی تیل کی درآمدات سے بھارت کو بعض اوقات نسبتاً کم قیمت پر خام تیل حاصل کرنے میں مدد ملی، جس سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی لاگت کو قابو میں رکھنے میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، روسی تیل پر حد سے زیادہ انحصار کے بجائے مختلف ممالک سے رسد برقرار رکھنا بھی بھارت کی توانائی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
کیا بھارت اب روس سے مزید تیل خرید سکے گا؟
امریکی فیصلے سے بھارت کو روسی تیل کی خریداری کے معاملے میں وقتی پالیسی گنجائش مل سکتی ہے، کیونکہ فوری طور پر نئے 100 فیصد ٹیرف کا دباؤ کم ہوا ہے۔ اس سے بھارتی ریفائنریوں کو روسی تیل اور متبادل ذرائع کے درمیان تجارتی فیصلے کرنے میں نسبتاً آسانی ہو سکتی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت کی روسی تیل کی درآمدات لازماً بڑھ جائیں گی۔ خریداری کا انحصار عالمی قیمتوں، رعایت، ترسیل کے اخراجات، ادائیگی کے نظام، دستیاب سپلائی اور مستقبل میں امریکی پالیسی پر بھی ہوگا۔
ٹرمپ نے پابندیوں میں چھوٹ کیوں دی؟
رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں ایندھن کی بلند قیمتیں اور عالمی توانائی کی رسد پر دباؤ اس فیصلے کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ اگر روسی تیل کی خریداری پر اچانک سخت پابندیاں نافذ ہوتیں تو عالمی منڈی میں دستیاب تیل کی مقدار متاثر ہونے اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ تھا۔
روس سے ڈیزل کی فراہمی سے متعلق امریکی انتظامیہ کی حالیہ پیش رفت بھی اس معاملے کو اہم بناتی ہے۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے اور عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا واشنگٹن کے لیے ایک مشکل مسئلہ ہے۔
کیا بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات پر بھی اثر پڑے گا؟
بھارت کے لیے روسی تیل کا معاملہ صرف توانائی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق امریکہ کے ساتھ وسیع تر تجارتی تعلقات سے بھی ہے۔ اگر روسی تیل کی خریداری پر بھاری ٹیرف عائد ہوتے تو بھارتی مصنوعات کی امریکی منڈی تک رسائی متاثر ہو سکتی تھی، جس سے برآمد کنندگان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
تازہ چھوٹ سے اس مخصوص خطرے میں فی الحال کمی آئی ہے، لیکن بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت اور توانائی پالیسی سے متعلق تمام اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ مستقبل میں امریکی حکومت کا رویہ، عالمی تیل کی قیمتیں اور دونوں ممالک کے مذاکرات اس معاملے کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔










