نئی دہلی: ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک نے بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے حوالے سے اپنی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے ریلائنس انڈسٹریز کے بیان کا جواب دیا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے بھارتی حکام، ٹیلی کام صنعت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ پانچ سال سے زیادہ عرصے تک کام کیا ہے اور ملک میں اپنے نیٹ ورک کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے۔
اسٹارلنک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس نے بھارت میں مقامی صارفین کو محفوظ اور تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے مخصوص سسٹمز، گیٹ ویز اور دیگر بنیادی سہولتیں قائم کی ہیں۔ کمپنی کے مطابق، یہ نظام متعلقہ سرکاری منظوریوں کے ساتھ تیار کیے گئے ہیں اور وہ بھارت کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسٹارلنک کے بھارت میں داخلے، سرکاری منظوریوں اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں مسابقت کو لے کر ایلون مسک اور مکیش امبانی کی ریلائنس کے درمیان لفظی بحث جاری ہے۔
ریلائنس نے کیا کہا تھا؟
ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسے سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے شعبے میں مسابقت سے کوئی خوف نہیں ہے اور وہ اسٹارلنک سمیت تمام کمپنیوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تاہم، کمپنی نے واضح کیا کہ بھارت میں کاروبار کرنے والی ہر کمپنی کو ملکی قوانین اور پالیسیوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
ریلائنس نے یہ بھی کہا کہ بھارتی حکومت ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے منظوری کا یکساں طریقۂ کار اپناتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس کی اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس، جیو سیٹ کام، بھی ضروری منظوریوں کی منتظر ہے۔
ریلائنس کا یہ بیان ایلون مسک کی جانب سے بھارت میں اسٹارلنک کی سروس شروع کرنے میں تاخیر پر اعتراضات کے بعد سامنے آیا تھا۔
ایلون مسک اور امبانی کے درمیان تنازع کیوں بڑھا؟
ایلون مسک نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا تھا کہ بھارت میں اسٹارلنک کی سروس شروع کرنے کا عمل کیوں تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض بڑے کاروباری مفادات کمپنی کے بھارت میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور اس سے مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
مسک نے ریلائنس کے چیئرمین مکیش امبانی کا نام لے کر بھی سوالات اٹھائے۔ تاہم، ان الزامات کے حق میں انہوں نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ بھارتی حکومت نے بھی امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو یکساں ضابطوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
کیا اسٹارلنک بھارت میں فوراً سروس شروع کر سکے گی؟
اسٹارلنک کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے بنیادی ڈھانچے اور تیاریوں کو مکمل قرار دے رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت میں تجارتی سروس فوراً شروع ہو سکتی ہے۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے لیے لائسنس کے علاوہ سکیورٹی سے متعلق شرائط پوری کرنا اور اسپیکٹرم مختص ہونا بھی ضروری ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق، ان تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی کمپنیوں کو تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
اسٹارلنک، ریلائنس جیو سیٹ کام اور بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ Eutelsat OneWeb اس شعبے میں اہم کھلاڑی ہیں۔ ان کمپنیوں کی خدمات دور دراز علاقوں، پہاڑی خطوں اور ایسے مقامات تک انٹرنیٹ پہنچانے میں مدد دے سکتی ہیں جہاں روایتی براڈبینڈ کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
بھارت میں صارفین کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
اگر اسٹارلنک کو تجارتی خدمات شروع کرنے کی حتمی اجازت مل جاتی ہے تو بھارت میں صارفین کو انٹرنیٹ کے ایک اضافی ذریعے کا انتخاب حاصل ہو سکتا ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جہاں موبائل نیٹ ورک یا فائبر براڈبینڈ کی سہولت محدود ہے۔
تاہم، عام صارفین کے لیے اس سروس کی افادیت اس کی قیمت، آلات کی لاگت، رفتار، دستیابی اور ماہانہ سبسکرپشن پر منحصر ہوگی۔ ایلون مسک نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ بھارت میں اسٹارلنک کی قیمت صارفین کی استطاعت کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن کمپنی نے ابھی تک اپنی بھارتی سروس کے لیے حتمی قیمتوں کا اعلان نہیں کیا ہے۔










