نئی دہلی :
کورونا وائرس تیزی سے اپنی شکل بدل رہا ہے اور یہ دن بدن خطرناک ہوتا جارہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کی نئی شکل ڈیلٹا ویرئنٹ کو سب سے خطرناک بتایا اور اسے لے کرآگاہ کیاہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریوسس نے متنبہ کیا ہے کہ ڈیلٹا جیسے تیزی سے پھیلنے والے ویرئنٹس کے سبب کووڈ 19-وبا بہت ہی ’خطرناک دور‘ میں پہنچ چکی ہے ۔اس کے پیچھے کی وجہ ڈیلٹا ویرئنٹ کے 100 سے زائد ممالک میں پہنچ جانا ہے۔ ایک پریس بریفرنگ میں گیبریوسس نے کہا کہ ہندوستان میں پہلی مرتبہ سامنے آیا ڈیلٹا ویرئنٹ میں اب بھی بدلاؤ اور میوٹیشن ہو رہے ہیں اور یہ کئی ممالک میں کووڈ-19 کا سب سے زیادہ خطرناک ویرئنٹ بن کر ابھرا ہے۔
ڈبلیو ایچ او سربراہ نے اس بات کا مشورہ دیا کہ ٹیکہ کاری کے ذریعہ وبا کے تیز مرحلہ کو ٹھیک ڈھنگ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی دنیا بھر کے لیڈروں سے یہ یقینی کرنے کی گزارش کی ہے کہ اگلے سال اس وقت تک ہر ملک میں 70 فیصد لوگوں کو ٹیکہ لگا دیا جائے۔ ڈبلیو ایچ او سربراہ نے کہا کہ یہ کچھ ممالک کی اجتماعی قوت کے اندر ہے کہ وہ قدم اٹھائیں اور یقینی کریں کہ ویکسین بانٹی جائیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی تک تین ارب ویکسین خوراک شیئر کی جا چکی ہیں۔
غور طلب ہے کہ ابھی تک دنیا بھر میں لگائی گئی کووڈ ویکسین کا صرف دو فیصد ٹیکہ کاری ہی غریب ممالک میں ہوئی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کناڈا جیسے امیر ممالک نے ایک ارب ویکسین شیئر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او سربراہ نے کہا کہ اگر کچھ ممالک ٹیکہ کاری میں پیچھے رہ جائیں گے تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہوگا۔ اس سے پہلے ٹیڈروس گیبریوسس نے کہا تھا کہ کورونا کے اب تک جتنے بھی ویرئنٹ کی شناخت ہوئی ہے ان میں ڈیلٹا سب سے زیادہ انفیکشن والا ہے اور یہ ان لوگوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جنھیں اینٹی کووڈ ویکسین نہیں لگی ہے۔
واضح رہے کہ ٹیڈروس گیبریوسس نے اس سے قبل کہا تھا کہ کچھ ممالک نے عوامی صحت اور سماجی پابندیوں میں ڈھیل دے دی ہے، ایسے میں دنیا میں انفیکشن کے معاملوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کورونا وائرس سے لڑائی کے لیے آج کے وقت میں جو اقدام اٹھائے جاتے ہیں وہ ڈیلٹا سمیت وائرس کے دیگر فکر انگیز شکلوں کے خلاف بھی اثردار ہیں۔










