پرتاپ بھانو مہتا
حال ہی میں جاری پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ ’ریلیجن اینڈانڈیا : ٹالیرینس اینڈ سیگرگیشن ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں مذہبی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور بھارت بڑےپیمانے پر مذاہبی ملک ہے ۔ رسم ورواج سے لے کر معاشرتی شناخت ، اعتقاد اور طرز عمل تک ہر نقطہ نظر سے یہ سچ ہے۔ انڈین ایکسپریس میں پرتاپ بھانو مہتا لکھتے ہیں کہ رونالڈ انگلہارٹ نے ریلیجنس سیڈن ڈکلائن نامی کتاب میں سروے کے اعدادوشمار کے ذریعہ بتایا ہے کہ 2007 اور 2019 کے درمیان دنیا کم مذہبی رہ گئی ہے ۔ 49 میں سے 43 ممالک میں یہ رجحان دیکھا گیا، مگر بھارت اس سے مستثنیٰ ہے ۔ تعلیم یا طبقے سے قطع نظر بھارت میں مذہبی انتہا پسند ی کی سطح یکساں نظر آئی۔
بھانوپرتاپ مہتا لکھتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کے لیے احترام کا آئیڈیل دوسری اہم بات ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں میں یہ احترام نظر آتا ہے ۔ 80 فیصد ہندو اور 79 فیصدی مسلمان ایک دوسرے کے مدہب کا احترام کرنا ضروری مانتے ہیں۔ وہیں 78 فیصد مسلمان اور 85 فیصد ہندو صحیح معنی میں ہندوستانی ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ۔24 فیصد ہندو اور مسلمان یہ مانتے ہیں کہ مذہبی تنازع سے ملک کا نقصان ہو رہاہے ، دلچسپ بات یہ ہے کہ دوبارہ پیدا ہونے میں یقین نہیںکے برابر ہے، لیکن اعمال کی اہمیت دونوں مذاہب میں یکساں ہے۔ مذاہبی حساسیتیں بھی ایک جیسی ہی ہیں۔
مہتا لکھتے ہیں کہ بین مذہب شادی کو روکنا 70 فیصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے ترجیجات میں ہیں۔ 45 فیصد ہندوؤں کو فرق نہیں پڑتا کہ اس کا پڑوسی کس مذہب سے ہے ، وہیں 45 فیصد چاہتے ہیں کہ ان کا پڑوسی دوسرے مذہب کا نہ ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 61 فیصد جین نہیں چاہتے کہ ان کا پڑوسی مسلمان، سکھ یا عیسائی ہو۔ ہندوؤں سے زیادہ مسلمان یہ مانتے ہیں کہ بھارت کی تقسیم غلط تھی۔ ایسے لوگ سب سے زیادہ سکھوں میں ہے ۔ زیادہ تر مسلمان تین طلاق کے خلاف ہے،ان میں دو تہائی ایسے معاملوں کاحل پرسنل لاء کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں۔










