لکھنؤ :
اتر پردیش میں ضلع پنچایت صدر الیکشن میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کی ہے ۔ وہیں اس انتخاب میں ایک بھی مسلمان امیدوار کو جیت نہیں مل سکی ہے ۔ نتائج آنے کے بعد سے ہی اےآئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی لگاتار بیان جاری کررہے ہیں۔ پہلے یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو للکار نے کے بعد اب اویسی نے سماج وادی پارٹی اور ملائم سنگھ پر نشانہ سادھا ہے ۔ ٹویٹ کرتےہوئے اویسی نے اپنا درد ظاہر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اترپردیش کے 19 فیصد آبادی والے مسلمانوں کا ایک بھی ضلع صدر نہیں ہے ۔ منصوبہ بند طریقے سے ہمیں سیاسی اور سماجی طور پر دوسرے درجہ کا شہری بنادیا گیا ہے ۔
صرف یہی نہیں ، اس زمرے میں انہوں نے ایس پی کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اترپردیش کی ایک سیاسی پارٹی خود کو بی جے پی کا سب سے اہم اٖپوزیشن پارٹی بتاتی ہے ۔ ضلع پنچایت کے الیکشن میں ان کے 800 ممبروں نے جیت درج کی تھی، لیکن صدر کے انتخاب میں صرف 5 صدر کی سیٹوں پر ان کی جیت ہوئی ہے،ایساکیوں؟ کیا باقی ممبران بی جے پی کے گود میں بیٹھ گئے ہیں؟
غور طلب ہے کہ حال ہی میں اختتام پذیر ضلع پنچایت الیکشن میں بی جے پی نے 67 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ وہیں ایس پی کو صرف 5 سیٹیں ملی ہیں۔ کل 75 سیٹوں والے الیکشن میں جن ستا دل ایک، لوک دل ایک اور آزادامیدوار نے ایک سیٹ پر جیت درج کی ہے ۔
اویسی صرف اس پر ہی نہیں رکے ، انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ کے کنبے کو ہدف تنقید کرتے ہوئے مزید ٹویٹ کیا ہے۔ اس ٹویٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ مین پوری ، کنوج ،بدایوں ، فرخ آباد ،کاس گنج ،اووریا جیسے اضلاع میں اس پارٹی کے سب سے زیادہ امیدوار جیت کر آئے تھے، لیکن صدر کے الیکشن پھر بھی ہار گئے۔ ان سارے اضلاع میں تو کئی سالوں سے ’خاص پریوار‘ کا دبدبہ رہا ہے ۔ اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ جن اضلاع کا نام اویسی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے ، وہ سماج وادی پارٹی کے دبدبے والے ضلع مانے جاتے ہیں، ایسے میں اویسی کس پر نشانہ سادھ رہے ہیں یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے ۔
اپنے ٹویٹ میں اویسی نے بی جے پی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ، اب توہمیں ایک نئی سیاسی تدبیر اپنانا ہوگا ۔ جب تک ہماری آزا د سیاسی آواز نہیں ہوگی تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونے والے ہیں۔ بی جے پی سے ڈرنا نہیں ہے، بلکہ جمہوری طریقے سے لڑنا ہے ۔ اویسی اپنی ٹویٹس میں مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کا بھی پورا انتظام کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بات ان کی اس ٹویٹ سے ظاہر ہو جاتی ہے ۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان باتوں کے ذریعہ اویسی یوپی کے مسلمان ووٹوں میں نقب لگانے کی کوشش میں ہیں۔
غور طلب ہے کہ یوپی میں اسمبلی انتخاب قریب ہیں ،ایسے میں یہاں کی سیاست میں ہاتھ- پاؤں آزمانے کی کوششیں بھی خوب ہو رہی ہیں۔ اویسی کے ٹویٹس بھی اسی طرف اشارے کررہے ہیں۔










