نئی دہلی:
کورونا کی دوسری لہر ابھی پوری طرح سے تھمی نہیں ہے۔ جبکہ تیسری لہر جلد آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ۔ بھارتیہ اسٹیٹ بینک (ایس بی آئی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کی تیسری لہر اگلے مہینے یعنی اگست میں دستک دے سکتی ہے ۔
ایس بی آئی ریسرچ کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر اگست کے مہینے میں آسکتی ہے اور ستمبر میں اپنے عروج پر ہوگی۔ یعنی کورونا وبا کی تیسری لہر ستمبر کے مہینے میں اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ایس بی آئی کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق 7 مئی کو ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ دوسری لہر اپریل میں ہندوستان میں آئی اور مئی میں اپنے پیک پر پہنچ گئی، جس نے دہلی، مہاراشٹر، کیرل اور دیگر ریاستوں کے لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا۔
ایس بی آئی کی رپورٹ کے مطابق اگست کے دوسرے ہفتے سے کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 21 اگست سے کورونا کے کیسز بڑھ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دوسری لہر کے مقابلے میں تیسری لہر کےپیک کے دوران زیادہ لوگ وائرس سے متاثر ہوں گے ۔
بینک کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کااثر تقریباً 98 دنوں تک رہ سکتا ہے ، اس کے علاوہ جانکاروں کا ماننا ہے کہ یہ دوسری لہر جتنی ہی سنگین ہوسکتی ہے ۔تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن مہم کو تیز ی سے چلایا جار ہا ہے اور اس کا فائدہ لوگوں کو ملے گا، اس لئے تیسری لہر میں اموات کی تعداد دوسری لہرکے مقابلہ میں کم ہو سکتی ہے ۔










