نئی دہلی:
کبھی بہار اسمبلی انتخابات کے عین قبل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ نے اپنے ایک خطاب میں ریزرویشن پر کھل کر اپنا اظہار خیال کیا تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے جیتنے کادم بھرنے والی بی جے پی اسمبلی انتخابات میں بری طرح ہار گئی۔ اب ایک بار پھر یوپی سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات نزدیک آرہے ہیں اورایک بار پھر آر ایس ایس کے سر سنگھ چالک موہن بھاگوت نے مسلم اور ہندوتو پر بیان دیا ہے جس نے نہ صرف بی جے پی بلکہ ریاست کی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔
دراصل سنگھ سربراہ ڈاکٹر بھاگوت نے اتوار کو بیان دیتے ہوئے کہا تھاکہ اگر کوئی ہندو کہتا ہے کہ مسلمان یہاں نہیں رہ سکتا ہے، تو وہ ہندو نہیں ہے۔ گائے ایک مقدس جانور ہے، لیکن جو اس کے نام پر دوسروں کو مار رہے ہیں ، وہ ہندوتو کے خلاف ہیں، ایسے معاملوںمیں قانون کو اپنا کام کرنا چاہئے۔ ان کایہی بیان بی جے پی کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔
توقع ہے کہ بھاگوت انتخابات کے پہلے ہندو- مسلم ایکتا کی بات کرنا چاہ رہے ہوں گے ،مگر یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہےکہ ملک کی مسلم آبادی کا بڑاحصہ آج بھی بی جے پی کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتا، شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسلم اکثریت علاقوں میں بی جے پی کو زیادہ ووٹ نہیں مل پاتے، ایسے میں بی جے پی کو اپنے ہندو حامی ووٹ ٹوٹنے کا بھی ڈر لگ رہا ہے تو دوسری طرف باقی پارٹیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ کہیں مسلم ووٹوں کی تقسیم نہ ہوجائے۔
موہن بھاگوت کے اس بیان کو لے کر خود سنگھ میں بھی دو گروپ بنے ہوئے ہیں۔ ایک گروپ اس بیان کو سنگھ کی روایتی وراثت سے جوڑتے ہوئے ملک کے ہر شہری کو ہندوستانی مانتا ہے جبکہ دوسرا گروپ واضح طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں ہے۔
سنگھ کے جانکار کہتے ہیں کہ ملک میں ہمیشہ سنگھ کے خلاف غلط فہمی پھیلائی گئی، سنگھ کو مسلمانوں کا مخالف بتایا گیا جبکہ سنگھ خود کو ہندو بتاتےہوئے کہتاہے کہ ہم شدت پسندی کے جذبے کو نہیں پھیلاتے بلکہ ملک کے ہر شہری میں راشٹر واد کو بیدار کرنا چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں کے درمیان اپنی جڑ مضبوط کرنے کے لیے ہی آر ایس ایس نے راشٹر یہ مسلم منچ جیسی تنظیم قائم کی اور مختار عباس نقوی جیسے چہروں کو آگے رکھنے کی کوشش کی ہے ۔










