نئی دہلی:
میوٹیٹ ہونے کے بعد کورونا وائرس الگ- الگ شکل میں انسانوں پر حملہ کرر ہاہے ، بلیک فنگس یعنی میکرو مائیکوسس کے بعد اب ایک اور نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ دراصل کووڈ 19-سے صحت یاب ہونے کے بعد مریضوں میں اوسکولر نیکروسس یعنی بون ڈیتھ (ہڈیوں کی موت)کے معاملے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسی میڈیکل کنڈیشن ہے جس میں انسان کی ہڈیاں گلنے لگتی ہیں۔
اوسکولرنیکروسس کے ممبئی میں تین معاملے سامنے آئے ہیں، جنہیں سائنسی اعتبار سے درج کرلیا گیا ہے ، ڈاکٹرز اس بات کو لے کر بھی فکر مند ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں اوسکولر نیکروسس اور اوسکولر نیکروسس کے درمیان اسٹیرائڈ کو ایک بڑا فیکٹر مانا جا رہاہے ۔ یعنی بیماری سے باز یابی کے لیے کوشش میں لائے جارہے اسٹیرائڈ اس کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہندوجا اسپتال میں اوسکولر نیکروسس سے درچار 40 سال سے کم عمر کے تین مریضوں کاعلاج کیا گیا ہے، یہ مریض کورونا سے صحت یاب ہونے کے دو مہینے بعد اوسکولر نیکروسس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ ہندوجا اسپتال میںمیڈیکل ڈاکٹرسنجے اگروال نے بتایاکہ ان مریضوں کو فیمر بون یعنی جانگھ کی ہڈی میں درد کی شکایت تھی۔
میڈیکل جنرل بی ایم جے کیس اسٹیڈیز میں اس بیماری پر ’اوسکولر نیکروسس اے پارٹ آف لانگ کووڈ 19-‘کے نام سے ہفتہ کو ایک اسٹیڈی بھی شائع ہوئی ہے ، اس کے علاوہ کئی اور ڈاکٹرز نے بھی کووڈ سے صحت یاب ہونے کے بعد اوسکولر نیکروسس کے ایک یا دو معاملے دیکھنے کی بات قبول کی ہے ۔
اسٹیڈی میں بتایا گیا ہے کہ کورونا انفیکشن سے مریضوں کو بچانے کے لیے کارٹیکوسٹیرائڈ پریڈیسولون کابڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے ، جس کے سبب اوسکولر نیکرو سس معاملے میں تیزی آئی ہے ۔










