نئی دہلی :
ایک چونکانے والی تشویشناک خبر ہے جس نے کئی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ اس وقت سیکڑوں این جی اوز حکومت کی جانب سے آڈٹ کے دور سے گزر رہی ہیں، ویسے تو یہ معمول کی کارروائی ہے ،مگر اس بار معاملہ کچھ الگ ہے۔ مودی سرکار غیر منافع بخش اداروں و شعبوں کے خلاف سخت رویہ کے لیے جانی جاتی ہے ۔ ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ وہ مخصوص تنظیموں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں اپنے آڈٹ کے نتائج استعمال کرے گی۔
Quartzمیں سامناتھ سبرامینن کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے بعد سے آڈیٹر غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر کے دورے کررہے ہیں۔ ہر ایک موقع پر مالیاتی دستاویزات کے ساتھ اس جگہ 10 سے 14 دن قیام کرتے ہیں۔ این جی اوز میں ایگزیکٹیو اور اکاؤنٹینٹ سے گفتگو ،انٹرویو کے وقت آنے والے آڈیٹرزنے مسلم ملازمین اور مستفید افراد کے بارے میں اور این جی اوز اسٹاف کی سیاسی وفاداری کے تعلق سے بھی اہم سوالات معلوم کئے ۔ یہ نیا ٹرینڈہے۔ سردست 22,000این جی اوز کو ایف سی آر اے ملا ہوا ہے ۔ اس سال کے آخر میں بیشتر کو لائسنس کی تجدید کے لیے درخواست دینی ہے جو قانون کا پیچیدہ اور مبہم حصہ ہے ۔ آکسفیم انڈیا کے سی ای او امتیابھ بہار نے کہاکہ فطری طور پر اس سیکٹر میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ تجدید کے وقت یہ آڈٹ کسی طرح کے انتقام میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
2018-19میں این جی اوز کو 163 ارب روپے غیرملکی چندہ ملا۔ مودی سرکار نے گزشتہ ستمبر میں قومی امور میں غیر ملکی ہاتھ کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ایف سی آر اے میں ترمیم کی تھی۔ این جی اوز کے فنڈاستعمال کرنے کے ضوابط سخت کردیے گئے جس سے کام کرنا مشکل ہوگیا ، جس پر اس سال مئی میں 43 این جی اوز کے اتحاد نے وزارت داخلہ کو خط لکھ کر کووڈ کے دوران آسانی پیدا کرنے کو کہا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ بیشتر ممالک میں ہندوستانی این جی اوز باقاعدہ اپنی مالی رپورٹس اور اکاؤنٹ فائل کرتی ہیں۔ ان کی بکس اسی وقت اسٹیٹ کی پڑتال کے دائرے میں آسکتی ہیں جب کسی نے ان کے بارے میں شکایت کی ہو۔ تاہم 300 کے قریب این جی اوز کو وزارت داخلہ کا خط ملا جس میں ایف سی آر اے قوانین کو توڑنے کی بات کہی گئی۔ ابھی تک کسی نے عدالت میں اس معاملہ کو چیلنج نہیں کیا ہے ۔بہرحال رپورٹ کے مطابق ہرایک این جی او اپنے لائسنس کی تجدید کے بارے میں فکر مند ہے۔
ایک این جی او کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے رپورٹر کو بتایا کہ وہ کئی چھوٹے این جی اوز اور غیر منافع بخش افراد کو گرانٹ دیتے ہیں ۔ چند ماہ قبل ان کا آڈٹ ہوا۔ ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ کوئی شکایت ہے یا شکایت کی گئی ہے ۔ بس دستاویزات کا ڈھیر جمع کرنے اور تیار رہنے کو کہا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری آڈیٹر ڈھونڈ کیا رہے ہیں اس کا جواب ہے کہ ایسی تنظیمیں جن سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہو یا دلتوں کے نام سے مشہور ہندو ذاتوں یا ایسے گروپ جو آزاد صحافت کرتے ہیں ان کے تعلق سے سوالات مثلاً انہیں کہاں پیسہ دیا گیا، کیوں دیا گیا اور انہوں نے اس پر کتنا خرچ کیا۔











