چترکوٹ :
مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے بارڈر پر بسے اس شہر میں گزشتہ پانچ دنوں تک سنگھ کا چینتن کیمپ لگا۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں رام مندر ٹرسٹ تنازع چھایا رہا، مگر سب سے خاص بات یہ کہ دھرم پریورتن کو لے کر کافی منتھن ہوا اور ایک نیا نعرہ وضع کیاگیا وہ ہے ’’ چادر اور فادر مکت بھارت ‘‘ مگر ابھی باضابطہ طور پر یہ نعرہ کسی نے جاری نہیں کیا ہے۔ اس میٹنگ کو ہمیشہ کی طرح میڈیا سے دور رکھا گیا تھا۔ فوٹو لینے تک کی ممانعت تھی۔ بھارت کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے 12 دسمبر 1948 کو سردار پٹیل کے نام خط لکھ کر اس پر انگلی اٹھائی تھی ۔

بہرحال دینک بھاسکر نے اپنی رپورٹ میں کھل کر یہ بات لکھی ہے کہ دھرم پریورتن کے ایشو پر سب سے زیادہ وقت صرف ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ سنگھ اس بات پر ابھی یک رائے نہیں ہو پایا ہے کہ مرکز سے دھرم پریورتن پر قانون لانے کے لیے کہا جائے۔ وہ یہ تجویز رکھنے کے بارے میں یکسو ہونا چاہتا ہے اس کے علاوہ ’’ گھر واپسی‘‘ کی مہم چلانے پر بھی غور کیا گیا۔ سنگھ کو ملک میں مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر بھی تشویش ہے ۔ آبادی کنٹرول بل کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس کے پیچھے آر ایس ایس کی ہی سوچ ہے ۔ مزید یہ کہ سنگھ نے مسلم اکثریتی علاقوں میں شاکھائیں لگانے کے فیصلے پر مہر لگادی ہے ۔ گرچہ یہ کام چل رہاتھا مگر رفتار بہت سست تھی۔ اس میں مسلم راشٹریہ منچ کی مدد لی جارہی ہے جو سنگھ کا ہی ایک ونگ ہے اور اندریش کمار اس کے سرپرست ہیں۔










