جودھپور :
چہرے کے چاروں طرف دوپٹہ باندھ کر ،ہاتھوں میں جھاڑو لے کر جودھپور کی سڑکوں پر صفائی کرتی اس خاتون پر شاید ہی کسی کی نظر پڑی ہو ، لیکن اب وہی سویپر ایس ڈی ایم بننے جارہی ہے۔ قسمت پلٹنا اسی کو تو کہتے ہیں ، اگر انسان من میں حوصلہ رکھےاور اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
ایسی ہی جودھپور نگر نگم میں صفائی کرمچاری سے ایس ڈی ایم بنی اس خاتون کی کہانی، جانئے کیسے اس لڑکی نے اپنے حوصلے سے کامیابی کی عبارت لکھی ہے۔
جودھپور نگر نگم میں جھاڑو لگانے والی صفائی ملازم آشا کنڈارا نے یہ کر دکھایا ہے ، وہ نگر نگم میں جھاڑو لگانے کے ساتھ ساتھ خالی وقت میں کتابیں لے کر بیٹھ جاتی تھی۔ سڑک کنارے ،سیڑھیوں پر جہاں بھی وقت ملتا تھا، پڑھائی شروع ہوجاتی تھی ۔ آج انہیں کتابوں کے جادو نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ راجستھان ایڈمنسٹریٹو سروس میں آر ایس 2018 میں آشا کا انتخاب اب ہوگیاہے ۔ اب وہ شیڈول زمرے سے ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہوں گی۔
بتادیں کہ آشا کی زندگی اتنی آسان نہیں تھی۔ آٹھ سال پہلے ہی شوہر سے جھگڑے کے بعد دو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی آشا پر ہی آگئی تھی۔ نگر نگم میں جھاڑ لگاتی تھی ۔ مگر صفائی کرمچاری کے طور پر باقاعدہ تقرری نہیں مل پا رہی تھی۔ اس کے لیے اس نے 2 سالوں تک نگر نگم سے لڑائی لڑیں لیکن کچھ نہیں ہوا۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ کبھی کبھی خوشیاں بھی چھپر پھاڑ کر مل جاتی ہیں۔ اسی طرح 12 دن پہلے آشا کے ساتھ بھی ہوا۔
جودھپور میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ان کی صفائی ملازم کے طور پر مستقلتقرری ہوئی تھی اوراب تو اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو سروس میں بھی انتخاب ہو گیاہے ۔ آشا نے آج تک سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دن میں وہ اسکوٹی لے کر جھاڑو لگانے آتی تھی اور اسکوٹی میںہی کتاب لے کر آتی تھی۔ یہی کام کرتے ہوئے انہیں نے پہلے ایجوکیشن کیا اور پھر نگر نگم کے افسروںکو دیکھ کر افسر بننے کی بھی ٹھان لی۔اس کے بعد سلیبس معلوم کیا اور تیاری شروع کردی۔ ان کے لیے سخت روٹین کے درمیان یہ مشکل تو بہت تھا، لیکن انہوں نے حالات کے سامنے کبھی ہار نہیں مانی اور تیاری میں مصروف رہیں، آج انہیں اپنا وہ مقام مل گیا ہے ، جس کا کبھی صرف خواب ہی دیکھا تھا۔










