اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

غربت کیسے دور کرسکتے ہیں یہ بنگلہ دیش سے سیکھئے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ Uncategorized, گراونڈ رپورٹ, مضامین
A A
0
غربت کیسے دور کرسکتے ہیں یہ بنگلہ دیش سے سیکھئے
57
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: نکولس کرسٹوف

امریکا پر ایک بڑا اور بدنما داغ یہ ہے کہ دنیاکے امیر ترین اور سب سے طاقتور ملک نے بچوں کی غربت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ چند روز قبل صدر جو بائیڈن کی طرف سے منظوری کے بعد 1.9 ٹریلین ڈالر کے ریسکیو پلان کے ذریعے امریکا نے اس داغ کو دھونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیکیج کی تاریخی شقیں وہ ہیں جو بچوں میں غربت میں کمی لانے کا باعث بنیں گی۔ کولمبیا یونیورسٹی کی ایک سٹڈی کے مطابق اگر ان اقدامات کو مستقل شکل دے دی جائے تو اس سے بچوں میں پائی جانے والی غربت آدھی رہ جائے گی۔ صدر جو بائیڈن بچوں کے لیے وہی کچھ کر جائیں گے جو کچھ فرینکلن روزویلٹ نے سوشل سکیورٹی کے ذریعے بزرگ شہریوں کیلئے کیا تھا۔ یہ امریکی تاریخ میں ایک انقلاب بھی ہے اور تاخیر سے کیا گیا اعتراف بھی کہ افلاس کے شکار بچوں پر سرمایہ کاری میں ہی سب کا فائدہ ہے۔ اس سے ملنے والے ممکنہ ثمرات کو سمجھنے کے لیے ہمیں دنیا کے دوسرے کونے تک سفر کرنا ہو گا۔

بنگلہ دیش کا قیام آج سے پچاس سال قبل عمل میں آیا تھا‘ اس وقت وہاں بھوک کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہنری کسنجر نے کبھی اسے ایک ’’باسکٹ کیس‘‘ قرار دیا تھا۔ 1974ء کی قحط سالی کی خوفناک تصاویر نے اس ملک کے مسائل کے لاعلاج ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔ پھر1991ء میں بنگلہ دیش میں ایک ہولناک سمندری طوفان آیا جس میں ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔ میں نے اس وقت نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں اسے بنیادی طور پر ایک بدقسمت ملک قرار دیا تھا۔ میری یہ بات ٹھیک بھی تھی کہ بنگلہ دیش کو صر ف ماحولیاتی تبدیلیوں کا ہی نہیں بلکہ کئی طرح کے سنگین چیلنجز کا سامنا تھا۔ مگر مجموعی طور پر میری ساری تنقید اور مایوسی غلط ثابت ہوئی کیونکہ پچھلے تین عشروں میں بنگلہ دیش نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ معاشی شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہوا اور عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق کووڈ سے پہلے مسلسل چار سال تک اس نے سات سے آٹھ فیصد سالانہ شرح سے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ یہ چین سے بھی زیادہ تیز رفتار ترقی ہے۔ بنگلہ دیش میں اوسط عمر 72 سال ہو گئی ہے جو امریکا کے کئی علاقوں سے بھی بہتر اوسط عمر ہے۔ شاید بنگلہ دیش کو ایک لاعلاج ملک کہا جاتا ہو مگر اب تو یہ دنیا کو سکھاتا ہے کہ ترقی کیسے کرنی ہے۔ بنگلہ دیش کی اس ترقی کا راز کیا ہے؟ وہ ہے تعلیم اور خواتین۔1980ء کی دہائی سے پہلے صرف ایک تہائی بنگلہ دیشی شہری اپنی ایلیمنٹری سکول کی تعلیم مکمل کر پاتے تھے۔ خاص طور پر بنگلہ دیشی لڑکیاں تو شاید ہی تعلیم حاصل کرتی تھیں‘ یوں ملکی ترقی میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر تھا مگر اس کے بعد حکومت اور سماجی تنظیموں نے تعلیم کے فروغ کے لیے کام شروع کر دیا۔ سب سے زیادہ زور خواتین کی تعلیم پر دیا گیا۔ آج بنگلہ دیش کے 98 فیصد بچے اپنی ایلیمنٹری تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جہاں جینڈر گیپ بہت زیادہ ہے‘ حیران کن بات یہ ہے کہ اب بنگلہ دیشی سکولوں میں لڑکوں سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ نوبیل پرائز یافتہ بینکر یونس حبیب‘ جنہوں نے بنگلہ دیش میں مائیکرو فنانس متعار ف کرایا تھا‘ نے مجھے بتایا کہ بنگلہ دیش میں جو ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے‘ وہ عورت کا سٹیٹس ہے اور یہ غریب ترین خواتین سے شروع ہوئی۔ یونس حبیب گرامین بینک کے بانی ہیں جس نے خواتین کو ورکرز سے بزنس مالکان میں تبدیل کر دیا۔ موبائل فون بیچنے والی ایک لاکھ سے زائد خواتین چار سال میں ’’ٹیلیفون لیڈیز‘‘ بن گئیں جس نے نہ صرف ان کی بلکہ ملک کی معاشی حالت بھی بدل کر رکھ دی۔ چونکہ بنگلہ دیش نے اپنی خواتین کو تعلیم دی اور انہیں بااختیار بنایا تو یہی خواتین بنگلہ دیشی معیشت کا ستون بن گئیں۔ گارمنٹس کی صنعت نے خواتین کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کیے۔ اس وقت آپ نے جو شرٹ پہنی ہوئی ہے‘ ممکن ہے یہ ان خواتین میں سے ہی کسی کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہو کیونکہ گارمنٹس میں چین کے بعد بنگلہ دیش دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔مانا کہ بنگلہ دیشی فیکٹریاں مغربی معیار کے مطابق ان خواتین کو بہت کم معاوضہ دیتی ہیں اور وہاں جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے مسائل بھی موجود ہیں‘ آتشزدگی اور سیفٹی کے مسائل بھی ہیں۔ 2013ء میں ایک فیکٹری میں خوفناک تباہی ہوئی جس میں گیارہ سو سے زائد کارکن ہلاک ہو گئے تھے مگر ورکرز کہتے ہیں کہ چودہ سال کی عمر میں شادی کرنے یا دھان کے کھیتوںمیں کام کرنے سے یہ ملازمت پھر بھی بہتر ہے۔ یونینز اور سو ل سوسائٹی نے بہت دبائو ڈالا اور ورکرز کی سیفٹی کے معاملات میں بہتری لانے میں خاصی کامیابی ہوئی۔ تعلیم یافتہ خواتین کو غیر منافع بخش تنظیموں مثلاً گرامین بینک وغیرہ میں بھی خالی اسامیوں پر کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو ویکسین لگوا لی۔ جگہ جگہ ٹائلٹس بنوائے۔ دیہاتیوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ خواتین کو فیملی پلاننگ سکھائی اور کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ۔ بنگلہ دیش کے پاس بڑے بڑے سیاسی لیڈر نہیں ہیں مگر اس نے انسانی وسائل میں جس طرح سرمایہ کاری کی ہے‘ اس نے ان کے معاشرے میں ایک تحرک پیدا کیا ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

عالمی بینک بنگلہ دیش کو کامیابی کی ایک لازوال کہانی قرار دیتا ہے جہاں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کو خط غربت سے نکالنے میں صرف پندرہ سال لگے۔ 1991ء کے بعد بچوں میں غذائیت کی کمی کا مسئلہ صرف نصف رہ گیا اور بنگلہ دیش اب اس میدان میں بھارت سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ دنیا اس کامیابی پر حیران ہے۔ آبادی میں اضافہ ساری کامیابیوں پر پانی پھیر دیتا ہے مگر بنگلہ دیشی عورت جو پہلے اوسطاً سات بچے پیدا کرتی تھی‘ اب صرف دو بچے پیدا کر رہی ہے۔ مختصر یہ کہ بنگلہ دیش نے اپنے سب سے کم استعمال شدہ اثاثوں یعنی اپنے غریب طبقے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس دوران حکومت کا سارا فوکس پسماندہ اور سب سے کم پیداواری شعبوں پر رہا کیونکہ وہیں سے سب سے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ یہی سب کچھ امریکا پر بھی صادق آتا ہے۔

ہم اپنے ارب پتی افراد سے مزید پیداوار نہیں لے سکتے مگر ہمیں بہت زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنے سات میں سے ایک بچے کی مدد کریں جو ہائی سکول سے اپنی گریجویشن مکمل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ اقدام ہے جس کے ذریعے صدر جو بائیڈن بچوں میں غربت اور افلاس ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس کا مرکزی نکتہ ریفنڈ ایبل چائلڈ ٹیکس کریڈٹ ہے جسے مستقل کر دینا چاہئے۔ بنگلہ دیش دنیا کو یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں پسماندہ بچوں پر محض خدا ترسی کرتے ہوئے ہی سرمایہ کاری نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے ملک کی ترقی کے خیال سے یہ سب کچھ کرنے کی ضرور ت ہے۔

((بشکریہ: نیویارک ٹائمز

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN