سری نگر :
جموں وکشمیر میں 2019 سے لے کر اب تک انتظامیہ نے تقریباً 1200 کیسز میں 2300 لوگوں پر غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ ( یو اے پی اے ) کے تحت کارروائی کی ہے ۔ اس کے علاوہ 954 لوگوں پر پبلک سیفٹی لاء(پی ایس اے) کے تحت ایکشن لیا گیا ہے ۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ دو برسوں میں یو اے پی اے کے تحت پکڑے گئے 46 فیصد ،جبکہ پی ایس اے کے تحت حراست میں رکھے گئے 30 فیصد لوگ اب بھی جیل میں ہی ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کے ذریعہ حاصل کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 2019 میںپی ایس اے کے تحت 699 لوگوں کو حراست میں لیا گیا، وہیں 2020 میں 160 اور 2021 میں جولائی کے آخرتک 95 لوگوں کو اسی قانون کے تحت بند کیا جا چکاہے ۔ ان میں سے 284 لوگوں کو انتظامیہ نے اب تک آزاد نہیں کیا ہے ۔ اطلاع کے مطابق ریاست سے 5 اگست 2019 کو خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے لیے مہینے کے اندر ہی 290 لوگوں کو پی ایس اے کے ماتحت حراست میں لے لیا گیا تھا ۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ سے لے کر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے لیڈروں کے نام شامل تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جو لوگ حراست میں لئے گئے تھے، ان میں 250 اکیلے کشمیر سے تھے ۔
دوسری طرف یو اے پی اے کے تحت گزشتہ دو سالوں میں 2364 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ان میں 2019 میں 437 کیسز 918 گرفتاریاں ہوئیں۔ جبکہ 2020 میں 557 کیسز میں 953 کو گرفتار کیا گیا ۔ اس سال جولائی کے آخر تک 3275 کسیزمیں 493 لوگ گرفتار کئے گئے۔ موجودہ وقت میں ان میں سے 1100 لوگ حراست میں ہی رکھے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کےمطابق پی ایس اے اور یو اے پی اے کے علاوہ سی آر پی سی کی دفعہ 107 کے تحت 2019 میں 5500 لوگوں کو حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ، حالانکہ محکمہ داخلہ کاصاف کہنا ہے کہ ان تمام کو چھوڑ جا چکاہے ۔
بتا دیں کہ 24 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران گپکار اتحاد کے رہنماؤں نے ان سخت قوانین کے تحت جیل میں بند لوگوں کو جلد از جلد رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔ جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے اسے حکومت کے تئیں اعتماد بڑھانے والا قدم قرار دیا تھا۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری نے کہا، ’ ایک طرف توحکومت اتنے سارے لوگوں کو حراست میں رکھ کر زمین پر بڑی تبدیلیوں کی بات کرتی ہے ، دوسری طرف پارلیمنٹ میں یہ کہتی ہے کہ امن کے بعد ہی جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک ہی صورت حال صحیح ہو سکتی ہے ‘ ۔ وہیں نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر اسلم وانی نے کہاکہ انہیں (حکومت) قیدیوں کو جموں وکشمیر میں ہی رکھنا چاہئے۔ تاکہ کم سے کم ان کے پریوار تو ان سے مل سکیں ۔










