نئی دہلی :
ویب سائٹ نیشنل دستک کے رپورٹر انمول پریتم سے جبراً ’ جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کو کہا گیا ،انہیں دھمکی دی گئی، انہیں بے عزت کیا گیا ، یہ سب اس جنتر منتر پر ہوا جو ہائی سیکورٹی زون ہے،جہاں پولیس کی مکمل نگرانی رہتی ہے ،لیکن پھر یہ بھیڑ انمول کو کافی دیر تک ہراساں کرتی رہی، انمول یہاں 8 اگست کو بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کی جانب سے بلائے گئے احتجاج کو کوریج کرنے آئے تھے ۔ موقع واردات پر صورت حال کیسے بگڑ گئی اس سلسلے میں ’دی کوئنٹ‘ نے انمول سے تفصیل سے بات چیت کی۔
دی کوئنٹ سے انمول نے بتایاکہ جیسے ہی میں ان سے بات چیت کرنی شروع کیا، انہی لوگوں میں سے سوال آیا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ روہنگیاں مسلمان ہے، اس کے بعد میں نے ان سے کہاکہ سات سال سے ملک میں بی جے پی کی حکومت ہے، نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں تو آپ لوگ ان سے کیوں نہیں پوچھتے،اگر روہنگیاں مسلمان ملک میں سب سے بڑامسئلہ ہے تو ان سے پوچھئے کہ حل کیا نکالا جا رہاہے اور اب تک مسئلہ کاحل کیوں نہیں نکالا گیا۔
جے شری رام کا نعرہ کی نوبت کیو ںآئی اس کے بارے میں انمول نے بتایا کہ اس میں سے اچانک ایک لڑکا چلایا اور مجھے پوائنٹ آؤٹ کرکے بولا کہ یہ ایک جہاد ی چینل ہے، اس چینل کے لوگ رام سے نفرت کرتے ہیں ، ہندوؤں سے نفرت کرتےہیں اور یہ لوگ وندے ماترم سے نفرت کرتے ہیں،یہ لوگ بھارت ماتا کی جے سےنفرت کرتے ہیں اور لوگ مودی- یوگی سے نفرت کرتےہیں… اس طرح کی چیزیں بول رہا تھا۔ اس کے بعد وہاں پر میرے آس پاس کھڑے 10 لوگ زور دینے لگے کہ تم جے شری رام کا نعرہ لگاؤ۔ میں نے ان لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ ہم لوگ بات چیت کرسکتے ہیں اس طرح سے پر تشددہونا ٹھیک نہیں ہے ۔
انمول پریتم نے مزید بتایا کہ حالات کچھ سنبھلے لیکن پھر ان کے ایک سوال سے بھیڑ بالکل سے اکھڑ گئی۔
اس کے بعد میں نے ایک چھوٹا سا سوال کردیا کہ ملک میں وزیر اعظم مودی خود لوگوں کو اناج بانٹ رہے ہیں جس سے یہ انداز لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں غریبی اور بھکمری ہے،ایسےوقت میں آپ لوگ غریبی اور بے روزگاری سے لڑنے کے بجائے ان تمام مسائل پر کیوں بات کررہے ہیں جو بھرے ہوئے پیٹ کے ایشوزہیں۔ یہ سوال پورا ہونے سے پہلے ہی بھیڑ سے ایک 50-55سال کے شخص آئے چلانا شروع کردیا کہ تم لوگ جہادی ہو ،تم پہلے جے شری رام بولو ،اس کے بعد وہاں جمع تمام لوگ جے شری رام بولنے کے لیے زور زبردستی کرنے لگے ۔
انمول نے بتایاکہ اس کے بعد ہی اس میں سے ایک آدمی آیا ، اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھورا اور ایک الگ انداز میں مجھ سے کہاکہ تمہارے منھ میں دہی جما ہے کیا.. . وہ ایک ایسا لمحہ تھا جب مجھے لگاکہ اب یہ لوگ آؤٹ آف کنٹرول ہوگئے ہیں،شاید اب یہ میری نہیں سنیں گے اور مجھ پر حملہ کردیں گے ۔
’اس وقت مجھےیہ انتخاب کرنا تھاکہ جسم پر چوٹ کھاؤں یا روح پر ‘
میں نے سوچا کہ اگر میں نے سمجھوتہ نہیں کیا تو یہ لوگ مجھ پر حملہ کردیں گے ، میرے جسم کی ہڈیاں توڑ دیں گے اور تمام چوٹیں میرے جسم پر لیں گی۔ یہ چوٹیں مہینے، سال ، دو سال میں بھر جائیں گی ۔لیکن اگر میں ان کی بات مان لیتا ہوں تو جو چوٹ میرے اصولوں پر ،میری روح پر ،میری اخلاقیات کو پہنچے گی یہ چوٹ شاید میں پوری زندگی بھر نہ پاؤں اور کسی بھی رات سکون سے سو نہ پاؤں کہ میں نے ایسے لوگوں کے سامنے خودسپردگی کردیا جو لوگ اس ملک میں بولنے کی آزادی کی قدر نہیں کرتے۔ اس لئے میں نے خود کو اور اپنے نظریے کو بچانے کا فیصلہ لیا اور ان سے بولا کہ میرا من ہو گا تو بولوں گا ورنہ میںنہیں بولوں گا اور اگر آپ لوگ ایسے گھیر کر مجھ سے کہیں گے تب تو بالکل بھی نہیں بولوں گا۔
ایک گراؤنڈ رپورٹ کے طور پر اگر پیٹرن کی بات کریں تو ایسا میں پہلی بار فیس کر رہا تھا۔ اس کے پہلے میں دہلی فساد کے دوران رپورٹنگ کرتے ہوئے بھیڑ سے گھر گیا تھا تو پولیس کی مدد سے بچا تھا لیکن اس بار جو ہوا یہ میرے لیے بالکل نیا تھا۔ میں نے بہت تمام احتجاج کو کور کیا ہے ، لوگ بات کرتے ہیں ،مسائل پر سوال وجواب ہوتا ہے اور جو سوال ان کو اچھا نہیں لگتا اس پر بھی وہ بول دیتے ہیں کہ یہ سوال آپ کا ٹھیک نہیں ہے، لیکن یہ والا تجربہ بالکل نیا تھا کہ لوگ آپ سے زبردستی نعرہ لگانے کے لیے بولیں اور نوچ کھائیں۔ یہ جو بھی تھا بہت خطرناک تھا، جمہوریت میں ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہئے ،ہم سب کو جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ہے ۔










