نئی دہلی :
سپریم کورٹ کے جج قانون کے مطابق اپنے 65 ویں سالگرہ سے ایک دن پہلے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ آج جسٹس روہنٹن فالی نریمن کی سالگرہ ہے اور اس اصول کے مطابق وہ جمعرات 12 اگست کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ ان کی وداعی کے موقع پرچیف جسٹس این وی رمن جذباتی ہو گئے ، انہوں نے کہا کہ آج ہم ہندوستانی عدلیہ نظام کا ایک شیر کھو رہے ہیں۔ جسٹس آر ایف نریمن کی مدت پر نگاہ ڈالیں تو ان کی ذہانت اور تیز طرار رویے کا اندازہ لگ جاتا ہے ۔
جسٹس نریمن 13 اگست 1956 کو پیدا ہوئے۔ وہ 1993 میں سینئر ایڈوکیٹ بنے اور 27 جولائی 2011 کو ہندوستان کے سالیسٹر جنرل مقرر ہوئے۔ انہیں 7 جولائی 2014 کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 12 اگست کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
اپنے کیریئر میں دیے بڑے فیصلے:
اپنے کیریئر میںانہوں نے کئی بڑے فیصلے لئے جن کی بحث کئی دنوں تک ہوتی رہی، جس میں کیرل کے سبری مالامندر میں خواتین کے داخلے کی اجازت ، زاردی کو بنیادی حق قرار دینا اور ہم جنس پرستی کے تعلق کو جرم کے زمرے سے ہٹانا جیسے کئی تاریخی فیصلے شامل ہیں ۔ جج کی کرسی پر بیٹھنے کے دو مہینے کے بعد جولائی 2014 میں جسٹس نریمن نے ایک فیصلہ لکھا تھا جس نے لوگوں کا توجہ اپنی طرف کھینچا تھا ۔ اس فیصلے میں انہوں نے موت کی سزا پانے والے ملزم کی نظر ثانی درخواست کو کھلی عدالت میں سماعت کرنے کی وکالت کی تھی ۔
37 سال کی عمر میں سینئر ایڈووکیٹ بنے:
جسٹس نریمن کو قانون معاملے کاعالم مانا جاتا تھا۔ وہ پہلے ایسے وکیل تھے جو صرف 37 سال کی عمر میں سینئر ایڈووکیٹ بن گئے تھے ۔ قانون کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ کا گاؤن پہننے کے لیے کم سے کم 10 سال ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں پیروی کا تجربہ اور کم از کم عمر 45 سال ہونا لازمی ہے ۔ جسٹس نریمن سے اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا ایم این وینکٹاچلیااتنے متاثر ہوئے کہ قانون بدل کر نریمن کو سینئر ایڈووکیٹ بنا دیا۔
وکیل سے سپریم کورٹ کے جج بنے:
قانونی طور پرہائی کورٹ کے جسٹس کو ہی سپریم کورٹ کا جج بنایا جاتا ہے لیکن نریمن کے لیے یہاں بھی قانون کو درکنار کرنا پڑا۔ انہیں براہ راست وکالت کرتے ہوئے جسٹس بنا دیا گیا۔ قانون سے الگ ہٹ کر خصوصی طور سے جج بننے والے جسٹس نریمن پانچویں وکیل تھے ان کے علاوہ جسٹس یو یو للت اور اندو ملہوترا بھی اسی طرح براہ راست جج بنے تھے ۔










