تحریر: اسماء زریں صالحاتی
ابوذر نويد کی پیدائش ضلع بجنور کے قصبہ کرتپور میں سن 1994 میں ہوئی، بچپن سے ہی ابوذر نويد کا تعلق ادبی گھرانے سے رہا ،والد 1992 میں اردو صحافت کی دنیا میں تھے جو بجنور کے ایک اخبار میں کتابت کرتے تھے ،
ان کے والد نے اردو عربی کے ساتھ اسکول کی تعلیم بھی دی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے ابوذر نويد دہلی چلے گئے، لکھنے پڑھنے کا ذوق ابوذر نويد کو بچپن سے ہی تھا، انھوں نے پہلا شعر جب کہا تھا جب وہ 9th کلاس میں تھے وہ شعر تھا:
جتنی چادر ہے تیری پاؤں بھی اتنے پھیلا
کیوں لباس اپنے لئے قد سے بڑا مانگے ہے
ابوذر نويد، کرتپوری
جب ابوذر نويد دہلی تعلیم حاصل کرنے دہلی آئے تو آپ نے دہلی میں ہی اردو محفلیں، نشستیں پڑھنی شروع کی اور ابوذر نويد نے شاعری کی دنیا میں علامہ مرحوم شمس رمزی کو استاد منتخب کیا، جبکہ ابتدائی استاد کرتپور میں ہی قاضی ظہیر احمد گوہر کو منتخب کیا ۔
اس کے بعد تمام مشاعروں میں ٹی وی چینلز، پر ریڈیو پر جانا شروع کیا جس سے ابوذر نويد کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا، اور آج ابوذر نويد حالات پر بہت اچھے شعر کہہ رہیں ہیں جن کو ہم نے مشاعروں میں اور سوشل میڈیا پر بھی سنا ہے۔ آپ کے کلام جو خوب وائرل ہوتے ہیں، جیسے یہ قطعہ ملاحظہ کریں…
دنیا میں اس طرح کا تماشا نہ کیجئے
گھر پھونک کر کسی کا اجالا نہ کیجئے
دل کے امیر ہوتے ہیں یہ لوگ اے نويد
کس نے کہا غریب سے رشتہ نہ کیجئے
اسی طرح سے حالات پر یہ شعر ملاحظہ کریں…
اللہ پہ یقین نہیں ہے جنہیں نویدؔ
دردر بھٹک رہے ہیں وہ شہرت کے واسطے
اب سچ کسی زبان پہ آتا نہیں نظر
سب جھوٹ بولنے لگے دولت کے واسطے
ابوذر نويد اپنی نئی شاعری سے لوگوں کو چونکا یا اور نوجوان نسل کو بھی متاثر کیا، اپنی غزلوں سے بھی ایک نئی پہچان بنائی۔ آپ کی ایک غزل مقبول ہوئی اس کے بعد مکمل غزلیں پسند کی جانے لگیں ۔
ابوذر نويد کی بے پناہ مقبول غزل میں سے ایک ملاحظہ فرمائیں…
ہم نے جھانک کر دیکھا بے شمار آنکھوں میں
آپ ہی نظر آئے بار بار آنکھوں میں
کتنا غم اٹھاتی ہیں خواب بھی ترستے ہیں
نیند تک نہیں آتی بے قرار آنکھوں میں
کوئی ہم سا دیوانہ تجھ کو مل نہیں سکتا
ڈھونڈ لیں گے ہم تجھ کو سو ہزار آنکھوں میں
جانِ دل کا ویرانہ کب سجے گا پھولوں سے
ہم سجائے بیٹھے ہیں انتظار آنکھوں میں
اشک بار پلکیں یوں بے وفا سے کہتی ہیں
آج بھی جھلکتا ہے تیرا پیار آنکھوں میں
چاند سے ستارے کیوں اے نوید جلتے ہیں
حسن چبھتا رہتا ہے بار بار آنکھوں میں
ابوذرنوید
اس طرح کی غزلیں لکھنے والے نئے قلم کار آج اپنی شاعری کا لوہا منوا رہے ہیں اور تمام کالج ، یونیورسٹی سے انعامات حاصل کر رہے ہیں، ابوذر نويد نے 2015 میں ذاکر حسین کالج میں کمپٹیشن میں پہلا مقام حاصل کیا تھا، پھر آک آئی آئی ٹی کالج حوض خاص سے ایوارڈ سے نوازا گیا، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی سے بھی آپ کو ایوارڈ سے نوازا گیا، اور اب تک بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
ابوذر نويد کے چند متفرقات شعر ملاحظہ کیجئے…
غزل
خامشی کی پکار ہے دنیا
جیت ہو کر بھی ہار ہے دنیا
اپنے مطلب سے بات کرتی ہے
کس قدر ہوشیار ہے دنیا
ایک لمحے میں ڈوب جائے گی
پانیوں پر سوار ہے دنیا
میری پگڑی اچھالنے کے لیے
کس قدر بے قرار ہے دنیا
اپنی مرضی سے چل نہیں سکتی
کتنی بے اختیار ہے دنیا
دل ‘ابوذر نوید کہتا ہے
پیٹھ پیچھے کا وار ہے دنیا











