کوالالمپور:
ملائیشیا کے وزیر اعظم محیی الدین یاسین کی کابینہ نے استعفا دے دیا، جس کے باعث ملک میں جاری سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز ملائیشیا کے وزیر سائنس نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ استعفیٰ ملکی بادشاہ کو جمع کرا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میںمحی الدین یاسین نے پیر کے روز شاہی محل میں بادشاہ سے ملاقات بھی کی اور اسی موقع پر اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
اکثریت سے محروم ہونے والے یاسین کو سیاسی مشکلات کا سامنا تھا، جس کے باعث انہیں اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔ یہ حکومت بھی محض 17 ماہ چل سکی اور وزیراعظم کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے۔ ملک کے بادشاہ عبداللہ رعایت الدین المصطفیٰ باللہ شاہ نے استعفا منظور کرلیا۔صرف 17 ماہ اقتدار میں رہنے کے بعد مستعفی ہونے والے محی الدین یاسین ملک کے سب سے کم عرصے رہنے والے وزیراعظم بن گئے۔
اس سے قبل ملک میں اصلاح پسندوں کی اتحادی حکومت ایک معاہدے کے تحت قائم تھی، جس میں 2 سال بعد مہاتیر محمد وزیراعظم رہے اور بقیہ 2 سال کسی اور کو وزیراعظم بننا تھا۔ قرعہ فال محی الدین یاسین کے نام نکلا تھا۔اسکینڈل زدہ اتحادی اور حکومت کے درمیان معاملات زیادہ دیر نہ چل سکے اور سیاسی انتشار حکومت کے مستعفی ہونے کا باعث بنا، جب کہ اس وقت ملائیشیا میں کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم تیزی سے پھیلنے کے باعث پہلے ہی ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے۔
ادھر ملک میں محی الدین یاسین کے بعد وزیراعظم بننے کے لیے کوئی متحرک رہنما موجود نہیں ہے، جس کے باعث انتخابات کا امکان نظر نہیں آرہا ہے اس لیے نئے سیاسی اتحاد کے ذریعے ان ہاؤس تبدیلی ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ پارلیمان میں اکثریت کو دیکھنے ہوئے ملائیشیا کے بادشاہ وزیر اعظم کی تقرری کرتے ہیں۔










