علی گڑھ :
یوپی میں ضلع پنچایت کا اقتدار بدلتے ہی نام بدلنے کا کھیل شروع ہوگیا ہے ۔ علی گڑھ ضلع کا نام ’ ہری گڑھ‘ رکھنے کی تجویز منظور ہوگئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مین پوری کا نام بھی میان رشی کے نام پر رکھنے کی تجویز ضلع پنچایت میں پاس کی گئی ہے ۔
ضلع پنچایت کی میٹنگ میں علی گڑھ کا نام ہری گڑھ رکھنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ ساتھ ہی مین پوری ضلع پنچایت نے بھی ضلع کا نام بدلنے کی تجویز پاس کرلی ہے ۔
علی گڑھ میں ڈسٹرکٹ پنچایت بورڈ کی ہوئی میٹنگ میں کیہری سنگھ اور امیش یادو نے علی گڑھ کا نام بدل کر ’ ہری گڑھ‘ رکھنے کی تجویز رکھی تھی ، جسے تمام ممبران نے متفقہ طور پرمنظور کرلیا۔
وہیں مین پوری میں بھی ضلع پنچایت کے ممبران نے میان رشی کی تاپو بھومی ہونے کے سبب مین پوری کا نام میان نگر رکھنے کی تجویز رکھی ۔ میٹنگ کے دوران مین پوری کا نام بدلے جانے کو لے کر ضلع پنچایت ممبران کی جانب سے مخالفت بھی کی گئی ، حالانکہ ضلع پنچایت ممبران کی اکثریت ملنے کے بعد ضلع پنچایت صدر ارچنا بھدوریا نے مین پوری کا نام میان نگر رکھنے کی تجویز پاس کردی ۔
ڈسٹرکٹ پنچایت میں منظور ہونے والی یہ تجاویز اب حکومت کو بھیجی جائیں گی ، جہاں فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کا نام تبدیل کیا جائے یا نہیں۔
علی گڑھ میں اس وقت سابق یوپی سی ایم کلیان سنگھ کے بیٹے راج ویر سنگھ راجو کی سمدھن وجے سنگھ ضلع پنچایت صدر ہے ۔ سیاست میں پہلی بار وہ سرگرم رول میں سامنے آئی ہیں۔ وہیں مین پوری ضلع پنچایت صدر کی کرسی پہلی بار بی جے پی کے پاس آئی ہے ۔ ابھی تک وہاں ایس پی کا ہی قبضہ رہتا تھا ۔ اس بار انتخابات میں بی جے پی کی ارچنا بھدوریا ضلع صدر منتخب ہوئی ہیں ۔










