دیوبند:
افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد اترپردیش سرکار سرگرم ہوگئی ہے۔ طالبان کے حامی اور دہشت گردی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یوگی سرکار نے سہارنپور کے دیوبند میں انسداد دہشت گردی دستہ ( اے ٹی ایس ) کمانڈو سینٹر بنانے کا فیصلہ لیا ہے ۔ اس کے لیے 2 ہزار مربع میٹر زمین بھی الاٹ کی گئی ہے ۔
دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق اس سینٹر میں 12 سے زائد اے ٹی ایس افسران تعینات ہوں گے اور بڑی تعداد میں اے ٹی ایس کمانڈ بھی یہاں تیار کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مشیر اطلاعات شلبھ مینا ترپاٹھی نے جانکاری دی۔ دیوبند اسلامی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے سرکار کے اس فیصلے کو سیاسی قرار دے ڈالا۔ اسمبلی میں حزب اختلاف رام گووند چودھری نے کہاکہ حکومت مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کررہی ہے ۔
رام گووند چودھری نے کہا کہ وہاں پر مذہبی تعلیم دی جاتی ہے ۔ سرکار ان کو ڈرانے کے لیے ایسا کررہی ہے ۔ آبادی کنٹرول قانون کو لے کر سرکار پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرانا قانون ہے،اندرا گاندھی نے لاگو کیا تھا ۔ تب ایمرجنسی کے دوران انہوں نے اسے لاگو کیا تھا اور اب بغیر ایمرجنسی کے لاگو کیا جا رہاہے ۔ جیسے کانگریس کا اس قانون نے صفایا کیا ، ویسے ہی ان کا بھی صفایا ہوگا۔ چودھری نے افغانستان میں طالبان کو لے کر کہاکہ یہ ٹھیک نہیں ہے ۔
دیوبند سے پہلے لکھنؤ اور نوئیڈا میں اے ٹی ایس کمانڈو ٹریننگ سینٹر کھولنے کی تیاری چل رہی ہے ۔ لکھنؤ میں اومسی اور نوئیڈا میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس یہ سینٹر بنے گا۔ دونوں جگہوں پر زمین فائنل ہو چکی ہے ۔ آرمی اور اسپیشل پروٹیکشن گروپ یعنی ایس پی جی کے افسران کی نگرانی میں یہاں کمانڈو تیار کئے جائیں گے ۔ انہیںہر وہ چیز سکھائی جائیں گی جو دہشت گردی حملوں کے دوران بچاؤ -راحت میں استعمال کی جاتی ہیں۔










