کابل :
افغانستان میں طالبان کی حکومت آتے ہی بین الاقوامی میڈیا کو بھی اپنا اسٹائل بدلنا پڑا ہے ۔ امریکی میڈیا ہاوس سی این این میں ایک خاتون رپورٹر کی حجاب پہنے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ۔ سی این این کی چیف انٹرنیشنل رپورٹر کلیریسا وارڈ نے منگل کو حجاب پہنے رپورٹنگ کی ۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ایک طرف طالبان امریکہ کا خاتمہ ہو کا نعرہ لگا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کا رویہ کافی دوستانہ دکھائی دے رہا ہے ۔
کلیریسا کی حجاب والی تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہورہی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ پہلے وہ حجاب نہیں پہنتی تھیں اور اب طالبان کے قبضہ کے بعد ان کا لباس بدل گیا ہے ۔ کلیریسا کی رپورٹنگ کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے ، اس میں وہ سر سے پاوں تک برقع میں نظر آرہی ہیں ۔ ان کے پیچھے طالبان جنگجو دکھائی دے رہے ہیں ۔ کچھ جیپ پر بیٹھ کر نعرے بازی کررہے ہیں کہ امریکہ کا خاتمہ ہو ۔
حالانکہ کلیریسا کا کہنا ہے کہ ایک تصویر پرائیویٹ کمپاونڈ کی ہے ( بغیر حجاب والی) ۔ دوسری تصویر میں طالبانی قبضہ والے کابل کی سڑکوں پر ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بھی میں نے جب کابل کی سڑکوں پر رپورٹنگ کی تو حجاب پہن رکھا تھا ۔ حالانکہ یہ پوری طرح کوور نہیں رہتا تھا ۔ 15 اگست کی ہی ایک رپورٹ میں وہ کرتے اور دوپٹے میں نظر آئی تھیں ، لیکن 16 اگست کو جب وہ رپورٹنگ کرتی دکھائی دیں تو انہوں نے حجاب پہن رکھا تھا۔
کلیریسا نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد خواتین زیادہ روایتی اور دقیانوسی ملبوسات میں نظر آرہی ہیں ۔










