لکھنؤ :
اسمبلی انتخابات 2022 کی تیاریوں میں مصروف بی جے پی اپنے سیاسی فارمولیشن درست کرنے میں لگگئی ہے ۔ بی جے پی کو پورا اعتماد ہے کہ ’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کے سہارے مسلمانوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہے گی۔ ایسے میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے 44 ہزار لیڈروں اور کارکنان کو پارٹی اپنا ’’ سفیر‘‘ بنا کر مسلمانوں کے گھر -گھر مودی – یوگی کی کامیابیوں کو پہنچائے گی۔ ساتھ ہی تعلیم یافتہ ،تاجروں و اعلیٰ طبقہ مسلمانوں کو جوڑنے کے لیے بی جے پی ہر ضلع میں ’ روشن خیال اقلیتی کانفرنس ‘ کرے گی ۔
اترپردیش میں 20 فیصد مسلم ووٹرکافی اہم رول میں ہے۔ ریاست کے دو درجن سےزیادہ ایسےاضلاع ہیں جہاں 20 سے 60 فیصد تک مسلم آبادی ہے۔ ریاست کی کل 143 سیٹوں پر مسلم اپنا اثر رکھتے ہیں ۔ ان میں سے 70 سیٹوں پر مسلم آبادی بیس سے تیس فیصد کے درمیان ہے ،جبکہ 73 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان تیس فیصد سے زیادہ ہے جو سیاسی طور پر کافی اہم ہے ۔
ریاست کی تقریباً تین درجن ایسی اسمبلی سیٹیں ہیں جہاں مسلم امیدوار اپنے دم پر جیت درج کرسکتے ہیں اور قریب 107 اسمبلی سیٹیں ایسی ہیں جہاں اقلیتی ووٹر انتخابی نتائج کو خاصی متاثرہ کرتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر سیٹیں مغربی اترپردیش ،یوپی کے ترائی والے علاقے اور مشرقی اترپردیش کی ہے ۔ مغربی یوپی میں بریلی، رام پور ،مراد آباد، بجنور ، امروہہ ، میرٹھ ، سہارنپور ، مظفر نگر ، آس پاس کے اضلاع میں مسلمان فیصلہ کن رول میں ہیں۔
یوپی میں مسلمانوں کی انہی فارمولیشن کو دیکھتے ہوئے بی جے پی اب انہیں اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے سیاسی کسرت شروع کررہی ہے ۔ بی جے پی اقلیتی مورچہ کی ریاستی ایگزیکٹیومیٹنگ میں منگل کو پردیش جنرل سکریٹری (تنظیم ) سنیل بنسل نے 2022
کے انتخابات میں شامل ہونے کا پیغام دینے کے ساتھ مہم کا خاکہ بھی سمجھایا ۔ بنسل نے کہاکہ اقلیتی مورچہ کے پردیش سے لے کر بوتھ سطح تک کے کارکنان ریاست میں اقلیتوں کے گھر گھر تک جاکر سرکار کی کامیابیوں اور اسکیمیں بتائیں گے ۔
ریاستی جنرل سکریٹری تنظیم سنیل بنسل نے کہا کہ آج بی جے پی کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان بھی تیزی سے جڑ رہے ہیں ۔ اس کے مدنظر ہی ہر ضلع میں روشن خیال اقلیت کانفرنس کرنے کامنصوبہ ہے ۔ اس کے ذریعہ تعلیم یافتہ اقلیت پارٹی سے آسانی سے جڑ سکیں گے ۔ بنسل نے بتایاکہ اقلیتوں کے درمیان بہتر کام کرنے کے لیے مورچہ کی بڑی ٹیم پردیش میں لگائی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پوری ریاست کے لیے تقریباً44 ہزار کارکنوں کی ایک ٹیم ہوگی جو مسلمانوں کے گھر گھر جاکر انہیں بتائے گی کہ مرکز میں مودی حکومت نے اس کمیونٹی کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد سے ایک بھی شکایت کہیں سے نہیں آئی اور نہ ہی کسی عوامی مفاد کی اسکیم سے مسلمان محروم رہا۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ بی جے پی مودی اور یوگی حکومت کے بہانے مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی اقلیتی مورچہ کے اتر پردیش کے صدر کنور باسط علی نے بتایا کہ ریاستی اقلیتی تنظیم میں 20 ہزار لیڈر اور کارکن ہیں اور جلد ہی ہم 44 ہزار کی ٹیم تیار کریں گے۔ اس ٹیم کے ذریعے ہماری پارٹی مسلمانوں کے گھر گھر جائے گی اور انہیں بی جے پی حکومت کے کارنامہ بتانے کے لیے کام کرے گی ، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے سازش کے تحت بی جے پی کے خلاف مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم مسلمانوں کو بتائیں گے کہ بی جے پی حکومت ان کے مفادات کا پورا خیال کیسے رکھتی ہے۔
کنور باسط علی نے بتایا کہ یوپی میں بی جے پی 25 اگست سے ضلع سطح پر اقلیتوں کے درمیان روشن خیال کانفرنس شروع کر رہی ہے۔ پہلے ہم چھوٹی کانفرنسیں کریں گے اور بعد میں منڈل سطح پر۔ اس کے علاوہ انتخابات سے عین قبل یوپی میں ریاستی سطح پر ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد تعلیم یافتہ ، تاجر اور اشرافیہ طبقے کے مسلمانوں کو پارٹی سے جوڑنا ہے۔ مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ ترقیاتی کاموں اور حقائق کی بنیاد پر بات کرتا ہے ، جسے ہم آسانی سے بیان کر سکتے ہیں۔
بتادیں کہ تین طلاق کے خلاف قانون لا کر مودی حکومت کی پہلی کوشش مسلم خواتین کو ساتھ لینے کی تھی جس کا بی جے پی کو پچھلے انتخابات میں کچھ فائدہ بھی ملا، ایسے میں بی جے پی کی تیاری 2022 کے یوپی انتخابات میں مسلم علاقوں میں اپنی مضبوط گرفت بنانے کی ہے، ایسی صورتحال میں دیکھنا ہے کہ بی جے پی کی یہ کوشش 2022 میں کیا گل کھلاتی ہے۔










