نئی دہلی :(پریس ریلیز)
جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مسلم ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ دن مزید تین افراد کی ضمانت کی عرضیاں منظور ہوگئیں جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل 90 افرادکی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے،امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
ظفر احمد ایف آئی آر نمبر 53/20 کی ضمانت دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس منوج کمار نے منظور کی، جبکہ پرویز اورشاہنواز عرف شانوکی ضمانت عرضداشت کرکرڈوما سیشن عدالت کے جج ونود کمار یادو نے منظور کی، دونوں ملزمین ایف آئی آر نمبر 140/20 میں نامزد تھے، ملزمین کو دیگر ملزمین کی ملی ضمانت کی یکسانیت کی بنیاد پر ضمانت ملی ہے۔
ملزمین کو دس ہزار روپے کے ذاتی مچلکہ پر ضمانت پر رہا کئے جانے کا حکم عدالت نے جاری کیا۔ عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت و شواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے اور دوران ٹرائل عدالت میں حاضر رہیں گے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان او ر ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگرنے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (فسادات برپا کرنا،گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا)اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔








