اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانستان میں جرمنی ناکام رہا، تبصرہ

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
افغانستان میں جرمنی ناکام رہا، تبصرہ
23
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

(برلن ایجنسی)

’افغانستان سے نکل جاؤ‘ آج سے بیس برس قبل کا یہ نعرہ تھا جرمنی کی لیفٹ پارٹی کا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے آسیاف نامی افغان مشن میں جرمنی کی شمولیت پر ہی لیفٹ پارٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار مارسیل فیورسٹناؤ لکھتے ہیں کہ اگر یہ پارٹی تب اقتدار میں ہوتی تو ایسا کر بھی پاتی؟

ان کے مطابق اس سوال کا جواب ہاں اور نہ دونوں میں ہی دیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول ‘ہاں‘ اس لیے کیونکہ طالبان اور اس تحریک کی دہشت گردی کا مقابلہ ضروری تھا، تاکہ جمہوریت کا دفاع کیا جا سکے۔

اور ’نہیں‘ اس صورت میں کہ بہت جلد ہی علم ہو گیا تھا کہ افغانستان کی جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ افغان حکومت کی بدعنوانی اور جمہوری نظام کا کمزور ہونا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں ان بنیادی مسائل کے خاتمے کی خاطر مغرب نے کبھی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ بالخصوص جنگی مشن میں افغانستان کے ثقافتی اور تاریخی امور کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔

جب جرمنی میں نیٹو کے افغان مشن پر بحث ہوتی تو کئی سوالات اٹھتے۔ جرمن مشن کب ختم ہو گا؟ یہ ایک ایسا سوال تھا، جس کا جواب صرف واشنگٹن حکومت کے پاس ہی تھا۔ اس مشن کی سربراہی امریکا کے پاس ہی رہی۔

اس کے باوجود جرمن حکومت بالکل ہی بے اختیار نہ تھی۔ اگر فوجی مشن میں نہیں تو کم ازکم سول مشن میں وہ تبدیلی پیدا کر سکتی تھی۔

اب جب کابل پر بھی طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے تو ایسے لوگوں کو وہاں سے نکال لینا چاہیے تھا، جو بیس سالہ جنگ میں افغان سفارتکاروں اور افواج کے معاونت کار تھے۔

مارسل فیورسٹناؤ کہتے ہیں کہ جرمن حکومت کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ بہت سے ایسے افغان ابھی تک ملک سے نہیں نکالے جا سکے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جون میں اس خدشے کو خارج از امکان قرار دے دیا تھا کہ افغان طالبان جلدی ہی کابل پر قابض ہو جائیں گے۔ جب یہ خدشات حقیقت کا رنگ اختیار کر گئے تو انہوں نے ناکامی کا تمام تر ملبہ وفاقی جرمن خفیہ ایجنسی کے کاندھوں پر لاد دیا۔

افغانستان کے بارے میں جرمن خفیہ ایجنسی کے تجزیے غلط ہونے پر تنقید کسی حد تک درست ہے لیکن معاملہ صرف یہی نہیں ہے۔ سوال ہے کہ کیا جرمن حکومت نے پلان بی بھی بنایا تھا؟ یعنی سقوط کابل کے بعد وہاں موجود جرمن اور جرمن حکومت کے معاونت کاروں کو وہاں سے نکالنے کا کوئی منصوبہ تیار تھا؟

مارسیل فیورسٹناؤ لکھتے ہیں کہ تباہ کن افغان پالیسی پر جرمن حکومت کا ردعمل شرمناک ہے

اس صورتحال میں بنیادی ذمہ داری چانسلر آفس پر عائد ہوتی ہے، جہاں سے تمام تر پالیسیوں کی منظوری ملتی ہے۔ یہ وہی دفتر ہے، جہاں ہفتہ وار کابینہ میٹنگز میں منصوبے بنائے جاتے ہیں جبکہ یہیں پر خفیہ اداروں کی معلومات پر بحث ہوتی ہے۔

مختصر یہ کہ اب انگیلا میرکل کو وضاحت کرنا ہو گی۔ ان کے لیے اور دیگر جرمنوں کے لیے ابھی یہی امید بچی ہے کہ افغانستان سے جرمنوں اور جرمنی کے معاونت کاروں کے اںخلا کا عمل، جو تاخیر سے شروع ہوا ہے، کامیاب رہے۔

اب بھی موقع ہے کہ جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر سیاسی یا مالی، کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے، اس کی پروا نہیں کی جانا چاہیے۔ ایک بات لیکن اہم ہے کہ اس صورتحال میں افغانوں اور جرمنوں کا کھویا ہوا اعتماد اب بحال کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔

(بشکریہ : ڈی ڈبلیو :یہ آرٹیکل جرمن زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN