(نئی دہلی آر کے نیوز)
افغانستان کے سابق سفیروں، اور افغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ طالبان کو قانونی جواز فراہم نہ کرے ،لیکن ان کے ساتھ قومی مفاد میں بات چیت ضرور کرے،ان کا تجزیہ ہے کہ طالبان کے زیر انتظام حکومت کے اس خطہ میں گہرے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔پریس کلب آف انڈیا کے تحت افغانستان اور مستقبل کے چیلنجزکے عنوان پر گفتگو کے دوران یہ آرا سامنے آئیں۔ شرکاء کا اس پر بھی اتفاق تھا کہ جب تک جنگ زدہ ملک میں حالات معمول پر نہیں ہوں ،نئی حکومت تشکیل نہ ہو ہمیں دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔پروگرام کی نظامت پی سی آئی کے صدر اوما کانت لکھیڑا نے کی۔
اس مذاکرہ میں سابق سفیر برائے افغانستان وویک کاٹجو،گوتم مکھواپادھیائے،ستیش جیکب(،سابق صحافی بی بی سی)،ماہر افغان اموروید پرتاپ ویدک،شکتی سنہا وغیرہ موجود تھے۔شرکاء نے اس بات پر زوردیا کہ طویل مدتی اسٹریٹجک مفادات و مقاصد کے مد نظر طالبان کے ساتھ کم سے کم سطح پر بات چیت کی ضرورت ہے ،ان کا مشترکہ احساس تھا سرکار نے طالبان سے مذاکرات نہ کرکے غلطی کی ہے،جن کے ساتھ امریکہ 20 سال لڑاوہ گزشتہ دو سالوں سے بات کررہا تھا،پھر اس نے انخلاء کی ڈیل پر دستخط کیے، حالانکہ امریکہ واتحادیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔دوسری طرف چین و روس نے بھی دروازے کھلے رکھے اور وعدہ لیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔مگر بھارت نے اس معاملہ میں اسٹریٹجک غلطی کردی وہ اکلوتا لوزر ہےاس کے باوجود کہ وہاں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
سابق سفیر برائے افغانستان گوتم مکھواپادھیائے نے کہا کہ بھارت آخری ملک ہونا چاہیے جو طالبان سرکار تسلیم کرنے والوں میں ہو۔ کسی اسلامی امارت کو تسلیم کرنے میں جلد بازی نہ ہو ۔ہمیں لگتاہے کہ خطہ میں گہرے اثرات ہوں گے ،اس سے پاکستان کے ساتھ عالمی دہشت گردوں کو بھی نفسیاتی حوصلہ و فروغ ملے گا ۔مکھوپادھیاے کے نزدیک یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ کب تک اقتدار میں رہیں گے،سابق سفیر نے خبردار کیا کہ طالبان کی دوستی کی پیشکش سے دھوکہ نہ کھائیں،اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ طالبان سے گفتگو کے نتیجہ میں دوسرے دہشت گرد تخریبی کارروائیاں نہیں کریں گے تاہم بات تو ضرور ہو ،سرکار ی سطح پر نہیں تو لوگوں کی سطح پر ہی سہی۔
افغان امور کے ماہر وید پرتاپ ویدک نے شکوہ کیا کہ سرکار نے افغان امور کے ماہرین سے کوئی مشورہ نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو طالبان مخالف رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ اس کا نقصان ہوگا۔ان کا سوال تھا کہ جب امریکہ چین روس و دیگر بات کرسکتے ہیں تو بھارت کو کیا اشکال ہے؟
شکتی سنہا نے کہا کہ زیادہ پینک ہونے کی ضرورت نہیں ۔افغان عوام دوستی چاہتے ہیں یہ زیادہ اہم ہے۔ عام خیال تھا کہ اسٹریٹجک فائدہ چین ،روس پاکستان اور ایران کو ہوگا وہ امریکی خلا پر کریں گے ۔خطہ کی نئی صورتحال بھارت کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔
اہم یہ ہے کہ پی سی آئی نے ایسے وقت میں ڈائیلاگ کا اہتمام کیا، جب مین اسٹریم میڈیا نے طوفان بپا کر رکھا ہے اور مذاکرات کی بات کرنے والوں کو دیش دروہی ،دیش ورودھی کہا جارہا ہے ،جبکہ سرکار خاموش ہے ۔








