لکھنؤ (ایجنسی)
بی جے پی نے پورے ملک کے مسلم ووٹروں کے درمیان اپنی رسائی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی جے پی کے محروم لیڈر سکندر بخت کی یوم پیدائش 24 اگست پر بی جے پی اقلیتی مورچہ خصوصی خراج عقیدت پروگرام منعقد کرے گا اور اس دن سے اقلیتی برادری کو بی جے پی سے جوڑنے کے لیے خاص مہم چلائے گی۔ اترپردیش سمیت تمام پانچ انتخابی ریاستوں کو بی جے پی کے حق میں ووٹ کرانے کا ہدف متعین کیا گیا ہے ۔ پارٹی اس بار اترپردیش میں بھی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دے کر ان کے درمیان خاض پیغام دینے کی کوشش کرے گی۔
امراجالا کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی صدر جمال صدیقی نےبتایا کہ اتر پردیش کی ان اسمبلی سیٹوں پر جہاں مسلم ووٹر 70-80 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہیں ، وہاں مضبوط مسلم امیدواروں کو موقع دیا جائے گا اور ان کی جیت یقینی بنائی جائے گی۔ ایسے امیدواروں کی جلد شناخت کرکے انہیں انتخابی تیاریوں میں مصرف ہوجانے کے لیے کہا جائے گا۔
لیکن جن سیٹوں پر مسلم ووٹروں کی تعداد نسبتاً کم ہے، وہ کسی ایک حق میں ووٹ دے کر انتخاب نتائج متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتےہیں ، وہاں مسلم برادری کے کم سے کم 5000 ووٹ بی جے پی امیدواروں کے حق میں ڈلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے مسلم سماج کے لوگوں کو بی جے پی کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔
2017 کے یو پی اسمبلی انتخاب کے دوران بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو موقع نہیں دیا تھا ۔ اس کے اس فیصلے کی کافی تنقید بھی ہوئی تھی ۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ 2017 کے انتخاب میں بی جے پی کے پاس جتاؤ، مضبوط مسلم امیدوار نہیں تھے، جس کی وجہ سے انہیں موقع نہیں مل پایا۔
لیکن پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس بار اس کے پاس کئی مضبوط مسلم امیدوار ہے، جن پر داؤ کھیلا جا سکتا ہے ،لہٰذا انتخاب میں بی جے پی انتخابی لسٹ میں کئی مسلم امیدواروں کا نام نظر آسکتا ہے ۔
اس قبل حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے نو امیدواروں کو موقع دیا تھا، جن میں تین امیدوار مسلم اکثریتی ووٹروں والی سیٹوں پر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے آسام میں 8، تمل ناڈو میں 2 اور کیرل اسمبلی انتخابات میں 12 (10 عیسائی اور دومسلم )اقلیتی امیدواروں کو موقع دیا تھا۔ بی جے پی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ جتاؤ ہونے کی بنیاد پر تمام پانچ انتخابی ریاستوں میں مسلم امیدواروں کو موقع دے سکتی ہے ۔
جمال صدیقی نے کہا کہ حب الوطنی اور قوم پرستی ہمیشہ بی جے پی کے سیاسی نظریے کے بنیادی موضوع رہے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی اور ایل کے اڈوانی جیسے قائدین نے اس نظریے کو ملک کے لوگوں تک پہنچانے میں جو کردار ادا کیا وہ اتنا ہی اہم تھا جتنا سکندر بخت جیسے مسلم لیڈروں کا۔ لیکن کانگریس نے مسلمانوں کو ہندوتوا کے مسئلے پر اکسا کر بی جے پی سے دور رکھنے کی کوشش کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس وہم کو توڑا جائے اور اس مقصد کے لیے وہ کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج جب وزیر اعظم نریندر مودی قوم کی تعمیر میں ‘’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس‘ کے ساتھ ’سب کا پریاس‘ شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں ، مسلم سماج کو بھی اس قومی نظریے میں مزید طاقت کے ساتھ جڑنا چاہیے۔ اس سے سماج میں بی جے پی کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع ملے گا۔ اقلیتی مورچہ کی ٹیم اس کے لیے قومی سطح پر مہم چلائے گی۔








