الہ آباد : (ایجنسی)
الہ آباد ہائی کورٹ نے عوامی مقامات پر مذہبی مقامات کے نام پر غیر مجاز تعمیرات پر سختی دکھائی ہے۔ عدالت نے حکومت کو اس معاملے میں ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ہائی کورٹ نے ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ اونیش کمار اوستھی کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر ایکشن پلان عدالت میں پیش کریں تاکہ مندروں ، مساجد ، گرجا گھروں اور گرودواروں کی غیر قانونی تعمیر کو روکا جاسکے اور سڑکوں ، گلیوں ، پارکوں اور عوامی املاک پر تجاوزات ہٹائی جائیں۔
دراصل ہائی کورٹ نے 13 ستمبر 2013 کے ایک عبوری حکم کے ذریعے عوامی مقامات سے غیر قانونی مذہبی تعمیرات کو ہٹانے کی ہدایت دی تھی جسے لے کرانتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کے پیش نظر جسٹس اجیت کمار نے عبدالقیوم کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر حکم دیا ہے کہ غیر قانونی مذہبی تعمیرات کو ہٹانے کا ایکشن پلان 30 دنوں میں پیش کیا جائے۔
بتادیں کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عدالت نے 13 ستمبر 2013 کے ایک عبوری حکم کے ذریعے عوامی مقامات سے غیر قانونی مذہبی تعمیرات کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ اس حکم پر عمل نہیں ہو رہاہے۔ عہدیدار اس معاملے پر ایکشن نہیں لے رہے ہیں، حکومت بھی اس حوالے سے سخت اقدامات نہیں کر رہی ہے اور حلف نامہ داخل کر کے معافی مانگ رہی ہے۔
توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکومت سے پوچھا ہے کہ عوامی مقامات کو غیر قانونی مذہبی تعمیرات سے کیسے بچایا جائے؟ اس کے جواب میں عدالت نے رپورٹ کے ساتھ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر وہ حلف نامہ داخل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پیش ہو کر وجوہات بتائیں کہ ان کے خلاف توہین کی کارروائی کیوں نہیں کی جانی چاہیے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی۔










