امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور جرمانے عائد کیے جانے کے بعد برطانیہ نے بھی ایک جھٹکا دیا ہے۔ حالانکہ پی ایم حال ہی میں برطانیہ کے دورے سے لوٹے ہیں اور تاریخی تجارتی ڈیل کرکے آئے ہیں ـ وہاں کے پی ایم سے گرمجوشی کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی تھیہندوڈتان کی خبر کے مطابق برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ غیر ملکی حکومتیں برطانیہ میں افراد اور کمیونٹیز کو ‘خاموش اور دھمکانے’ کی کوشش کر رہی ہیں۔ برطانیہ کی جوائنٹ ہیومن رائٹس کمیٹی (جے سی ایچ آر) نے ہندوستان کا نام بھی ان 12 ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کے خلاف بین الاقوامی جبر کے ثبوت ‘برطانیہ میں بین الاقوامی جبر’ (ٹی این آر) رپورٹ میں ملے ہیں۔ فی الحال اس رپورٹ پر بھارت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
جے سی ایچ آر برطانوی پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ہے اور اس کا کام برطانیہ میں انسانی حقوق سے متعلق معاملات کی چھان بین کرنا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمیٹی کو ‘قابل اعتماد شواہد’ ملے ہیں کہ برطانیہ کی سرزمین پر متعدد ممالک اس طرح کی جابرانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں، جس نے نشانہ بنائے گئے لوگوں پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں، ان میں خوف پیدا کیا ہے، ان کی آزادی اظہار اور نقل و حرکت کو محدود کیا ہے اور ان کے تحفظ کے احساس کو مجروح کیا ہے۔
***فہرست میں 12 ممالک کون سے ہیں؟
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کی سیکیورٹی ایجنسی ‘MI5’ کی جانب سے کیے جانے والے اس طرح کے کیسز کی تحقیقات میں 2022 سے 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ہماری تحقیقات کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ممالک نے برطانوی سرزمین پر TNR کی سرگرمیاں کیں۔ کئی شواہد میں الزام لگایا گیا ہے کہ بحرین، چین، مصر، اریٹیریا، انڈیا، ایران، پاکستان، روس، متحدہ عرب امارات، ترکی، عرب امارات، ایران، پاکستان، روس اور عرب امارات میں ٹی این آر کی سرگرمیاں ہیں۔۔”
***خالصتانی تنظیم SFJ کا تذکرہ
جے سی ایچ آر کی رپورٹ میں ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے خلاف ثبوت سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے) سے منسلک ہیں، جو خالصتان کی حامی تنظیم ہے جسے ہندوستان کے یو اے پی اے ایکٹ کے تحت غیر قانونی تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے انفرادی ممبر ممالک کے طرز عمل کے بارے میں شواہد ملے ہیں جن پر انٹرپول میکانزم کے "منظم غلط استعمال” میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔








