ایک نقطہ نظر:عبد الحمید نعمانی
ایم آئی ایم ( مجلس) والے دو کام بہت غلط کر رہے ہیں، ایک یہ کہ ملک کو مسلم لیگ کے دور میں لے جا رہے ہیں، اس سے چند لیڈروں کو تو کچھ فائدہ ہو جائے گا لیکن مسلمانوں کو مجموعی طور پر بہت نقصان ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا، دوسرا کام یہ کہ وہ احساس کمتری و علیحدگی پسندانہ سوچ پر پردہ ڈالنے کے لیے ہندوتو وادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں ان سے بھی آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، آپریشن سندور کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا، اویسی نے وینزویلا پر امریکی حملے کی طرح پڑوسی ملک پر حملے کی بات کہی، ان کو اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ جنگ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، خاص طور سے ایٹمی ہتھیاروں والے ملک پر حملے سے، مہاراشٹر کے انتخابات میں کچھ سیٹوں پر کامیابی کے بعد مجلس کے کچھ لیڈروں نے پردہ اور ہرے رنگ کی بات کر کے پہلی بات کا نمونہ پیش کیا تو دوسری بات کی مثال، بہار مجلس کے صدر نے لاؤڈاسپیکر پر بلند آواز سے آذان پر اعتراض کر کے پیش کی ہے، اسلام اور مسلمان تو پہلے ہی سے ہندوتو وادیوں کے نشانے پر ہیں، مجلس نے ان کے منشاء کے مطابق بات کر کے ناسمجھی کا کام کیا ہے، چھوٹے اویسی پہلے بھی 15/منٹ والا احمقانہ بیان دے کر ہندو فرقہ پرستوں کو ہتھیار تھما چکے ہیں، حالاں کہ وہ اور دیگر مجلسی کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، آزادی کے بعد ایسی احمقانہ حرکتوں سے حیدر آباد ریاست ان گنت مسلمانوں کو تباہ و برباد کر چکے ہیں، مجلس کے لیڈر اسلام پر اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں اور فتوے بھی جاری کرتے ہیں کہ کس معاملے کی دینی حیثیت کیا ہے اور کون صحیح مسلمان ہے، ?










