اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بے حس حکمراں،بے بس اپوزیشن

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
بے حس حکمراں،بے بس اپوزیشن
45
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سراج نقوی

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری ،جس میں ایک کارٹون کے نیچے ایڈورڈ اسنوڈن کا ایک قول بھی نقل گیا تھا۔قول یہ تھا’’جب جرم کے انکشاف کو (حکمرانوں کے ذریعہ)جرم کا ارتکاب مان لیاجائے تو (سمجھ لیجیے)آپ مجرموں کی حکمرانی میں ہیں۔‘‘اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے کے لیے بی جے پی کے 7سال کے دور اقتدار کو محض اشارتاً پیش کرنا بھی کسی مختصر مضمون میں ممکن نہیں۔اس بات پر بھی بحث ممکن نہیں کہ کس طرح محض 24گھنٹے میں اوم پرکاش چوٹالہ،اجیت پوار، مکل رائے اور ان جیسے ایک درجن سے زیادہ لیڈراپنی سیاسی وفاداری بی جے پی کے تئیں ظاہر کرنے کے بعد بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باوجود سرکاری جانچ ایجنسیوں کی کلین چٹ سے نواز دیے گئے اور کس طرح بہار کے پپّو یادو یا ان جیسے بہت سے لیڈروں کو اس لیے جیل بھیج دیا گیا کہ انھوں نے حکمرانوں کی بدعنوانی کی پول کھولنے کا جرم کیا تھا۔

مذکورہ صورتحال درحقیقت بی جے پی حکمرانوں کی بے حسی،بے شرمی،اقتدار کے ناجائز استعمال اور طاقت کے بل پر جمہوریت کو یرغمال بنانے کی کوششوں کا ثبوت ہے۔لیکن صرف حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دینے اور ان کے عیوب پر تنقید کر دینے سے بات ختم نہیں ہو جاتی۔اس لیے کہ کم و بیش حکمرانوں کی ہمیشہ ہی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اقتدار کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کریں۔لیکن ایک جمہوری نظام میں اپوزیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ برسر اقتدار جماعتوں کی ان کوششوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر عوام میںبے داری پیدا کریں اور بد عنوان و نااہل حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے متحدہ حکمت عملی تیار کریں۔

بد قسمتی سے مرکز سے لیکر ملک کی مختلف ریاستوںتک میں اپوزیشن پارٹیاں اس متحدہ حکمت عملی سے کوسوں دور ہیں۔حالانکہ مغربی بنگال کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بھگوا طاقتوں کے مقابلے میںمضبوطی سے لڑا جائے تو انھیں دھول چٹاناکچھ مشکل نہیں۔لیکن شمالی ہند کی بیشتر ریاستوں کے حالات مختلف ہیںاور یہاں اس متحدہ حکمت عملی کے لیے کئی کوشش بھی نظر نہیں آتی۔بہار میں اپوزیشن نے کس بے بسی کے ساتھ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے سامنے جیتی ہوئی بازی کو اپنی شکست تسلیم کرکے اقتدار سے محرومی کو اپنا مقدر مان لیا یہ سب کے سامنے ہے۔ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں بی جے پی نے جس طرح الیکشن میں واضح جیت حاصل نہ کرنے کے باوجود ممبران اسمبلی کی وفادرایاں بدلوا کراقتدار پر قبضہ کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس تمام صورتحال کے لیے پست حوصلہ،بے حس اور خود غرض اپوزیشن پارٹیاں ہی ذمہ دارہیں،اور یہ بات طے ہے کہ اگر اتر پردیش میں آئیندہ برس ہونے والے اسمبلی الیکشن میں اپوزیشن اسی بے حسی اور خود غرضی کا شکار رہی تو بی جے پی کے خلاف عوامی فیصلہ بے اثر ہو سکتا ہے۔

اتر دیش بی جے پی کے لیے کتنا اہم ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں لیکن ریاست کی موجودہ صورتحال کسی بھی طرح حکمراں جماعت کے لیے باعث اطمینان قرار نہیںدی جا سکتی۔اس کا سبب بھی واضح ہے۔ایک طرف تو کورونا سے نمٹنے کے معاملے میںریاستی حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر ملک بھر میں بلکہ اس سے باہر بھی سوال اٹھے ہیں،دوسری طرف خود ریاست میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے کہ جو کچھ عرصہ پہلے تک بی جے پی کے زبردست حامی سمجھے جاتے تھے لیکن مختلف اسباب سے اس وقت ریاستی حکومت و انتظامیہ سے سخت ناراض ہیں ۔اس کا سبب ریاستی حکومت کا وہ رویہ ہے جس میں غیر تو غیر اپنوں کے بھی اختلاف رائے کو دبانے کی کوششیں حکومت اور انتظامیہ کر رہی ہے۔ریاست میںایسے کئی ممبران اسمبلی اور بی جے پی لیڈر ہیں جو یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر انھوں نے سچ بولا تو ان پر ملک سے بغاوت یا دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو جائیگا۔یعنی اختلاف رائے کو سننے کی تاب حکمرانوں میں نہیں ہے۔لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں میں بھی یہ حوصلہ نہیں کہ وہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کھل کر میدان میں آسکیں۔خصوصاً سیکولرزم اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کے حقوق کے معاملے میں تو اپوزیشن پارٹیاں صرف ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر ٹوئٹر پر دیے جانے والے بیانات تک محدود ہو گئی ہیں۔بی ایس پی سپریمو مایاوتی تو اس معاملے میں بھی ’سیف گیم‘کھیلنے کی روش پر گامزن ہیں۔ممکن ہے تاج کاریڈور معاملے میں بی جے پی حکمرانوں کے پاس دبی ہوئی فائیلیں اس کا سبب ہوں۔ویسے بھی مایاوتی اور سیکولرزم کا رشتہ ہمیشہ ہی سوالوں کے گھیرے میں رہاہے۔مودی کو گجرات اسمبلی کا الیکشن لڑانے کے لیے وہ ماضی میں گجرات تک جا چکی ہیں۔اتر پردیش میں بھی بی ایس پی دلت ووٹوں کا سودا کر سکتی ہے،بشرطیکہ دلت سینا کے چندر شیکھران کے راہ کی دیوار نہ بن جائیں۔جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پرینکا گاندھی اتر پردیش میں سخت محنت کر رہی ہیں اور پارٹی کے ریاستی صدر اجے کمار للو بھی بیشتر عوامی ایشوز،جن میں مسلمانوں کے مسائل بھی شامل ہیں اٹھانے میں کسی قدر فعال نظر آتے ہیں، لیکن ان لیڈران کی یہ فعالیت کانگریس کو اتر پردیش میں اقتدار دلانے میں کامیاب ہو پائیگی اس کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا۔اس کا سبب بھی ہندوتو اور سیکولرزم کے تعلق سے اس کا دوہرا رویہ ہے۔

مذکورہ دونوں پارٹیوں کے علاوہ سماجوادی پارٹی بھی اتر پردیش کی اپوزیشن پارٹیوں میں خود کو اقتدا کی مضبوط دعویدار مان رہی ہے۔حالانکہ سماجوادی پارٹی کا روائتی ووٹر اب اس سے کافی دور جا چکا ہے۔ کئی دہائی تک مسلم ووٹوں کے سہارے اقتدار کے مزے لوٹنے والی یہ پارٹی مسلمانوں سے کافی دور جا چکی ہے۔اکھیلیش کا پانچ سال کا دور اقتدار اور اس کے بعد یوگی حکومت میں پارٹی کا جو رویہ رہا ہے اس نے عام طور پر مسلمانوں کو اس پارٹی سے بد ظن کر دیا ہے۔یہ الگ بات کہ اکھیلیش یادو اس کج فہمی کے شکار ہیں کہ مسلمان انھیں چھوڑ کہیںنہیں جا سکتے۔ ممکن ہے دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی عدم فعالیت اور مسلمانوں کے تعلق سے پائی جانے والی بے رخی اکھیلیش کی اس کج فہمی کو درست ثابت کر دے۔لیکن سماجوادی پارٹی کے لیے دوسری پریشانی یہ ہے کہ خود یادو ووٹ بھی پوری طرح اس کے ساتھ نہیں ہے۔گذشتہ اسمبلی الیکشن میںیادو برداری نے بی جے پی کو ووٹ دیکر ثابت کر دیا تھا کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔دوسری بات یہ کہ پارٹی میں تقسیم کے بعد شیو پال یادو اب اپنی الگ پارٹی بنا چکے ہیں اور اگر چچا بھتیجے میں کوئی سیاسی مفاہمت نہیں ہو سکی تو یادو ووٹ کئی جگہ تقسیم ہو سکتا ہے۔لیکن شائد اکھیلیش کو اس کی پرواہ نہیں۔وہ کسی قیمت پر سیکولرزم کے حق میں کھڑے ہونے اور مسلمانوں و دلتوں کو اپنی پارٹی سے مضبوطی سے جوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس کا سبب بی جے پی اور ان کی پارٹی کے درمیان کوئی درپردہ معاہدہ ہے یا کچھ اور یہ تو وہی بہتر جانتے ہونگے لیکن ایک بات بہرحال طے کہ اس کے نتیجے میں اتر پردیش میں مسلسل کمزور ہو رہی بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتاہے۔باوجود اس کے بی جے پی کی شکست کے تمام حالات ریاست میں موجود ہیں۔یہ بات بھی جگ ظاہر ہے کہ خود بی جے پی میں داخلی اختلافات کم نہیںہیں،لیکن یہاں آر ایس ایس اور اقتدار کو مضبوطی دینے والے تمام اداروں پر پارٹی کا قبضہ اس کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔جب کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اگر خود کو اسی طرح بی جے پی کے سامنے بے بس کر لیا تو اسے شکست دینے کے تمام منصوبے خاک میں مل جائینگے۔دوسری طرف باقی اپوزیشن پارٹیوں میں بھی بی جے پی کو شکست دینے کے لیے کسی متحدہ حکمت عملی پر غور کرنے کا سلسلہ کم از کم ابھی تک تو شروع نہیں ہوا ہے۔جب کہ بی جے پی نے ’ہر سطح‘ پر اپنی تیاری شروع کر دی ہے۔
sirajnaqvi08@gmail.com
Mobile:-09811602330

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

Iran US War Analysis News

"ایران جنگ ہار نہیں سکتا، امریکا جیت نہیں سکتا‘‘

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

مارچ 5, 2026
Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

مارچ 5, 2026
Iran US War Analysis News

"ایران جنگ ہار نہیں سکتا، امریکا جیت نہیں سکتا‘‘

مارچ 5, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026

حالیہ خبریں

Bihar Politics Nitish Crisis News

بہار: آخر کار BJP نے نیتیش کا کھونٹا اکھاڑ ہی دیا، بڑھاپا دہلی میں کٹے گا

مارچ 5, 2026
Humayun Kabir Y Plus Security News

بنگال میں بابری مسجد بنوانے والے ہمایوں کبیر کو وائی پلس سیکورٹی کیوں دی گئی ؟

مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN