مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اب صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہی۔ اس جنگ میں ایران کا ساتھ دینے کے لیے روس اور چین بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ صورت حال ایک اورجنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں ایران کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف روس اور چین کی فوجی مدد مل رہی ہے۔چین اور روس بھی امریکہ کی طرز پر کام کر رہے ہیں کہ پہلے کسی ملک کو اسلحہ دیں، پھر ضرورت پڑنے پر براہ راست جنگ میں اتریں۔ اس سے ایران کے خطے میں چین اور روس کا اثر و رسوخ بڑھے گا، جس کا مطلب ہے کہ یہ ممالک مشرق وسطیٰ میں بھی امریکہ کو براہ راست چیلنج کر رہے ہیں۔
ایران جنگ کی تیاری میں مصروف؟
ایران نے اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام اور J-10C لڑاکا طیارے اور PL-15 میزائل چین سے حاصل کیے ہیں۔ یہ ہتھیار ایران کو اسرائیلی اور امریکی حملوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں تیزی لائی ہے جس سے امریکہ اور اسرائیل کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
**امریکہ،اسرائیل کی ایک اور جنگ کی دھمکیاں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا اسے ‘تباہ’ کر دے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن ایران نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
**روس اور چین ایران کے ساتھ ۔
روس اور چین مضبوطی سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کی اور مشرق وسطیٰ میں امن کے اقدامات پر بات کی۔ تاہم اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو روس اور چین ایران کی اسلحہ اور سیاسی مدد کر سکتے ہیں۔
**جنگ کا خطرہ لگاتار بڑھ رہا ہے ۔
12 روزہ جنگ کے بعد جنگ بند ہونے کے باوجود ایک اور جنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرتے ہیں تو یہ جنگ صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہے گی۔ روس اور چین کی موجودگی اسے عالمی تنازع میں بدل سکتی ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایران کی عسکری تیاری، امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں اور روس اور چین کی حمایت اس تنازع کو ایک بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اگر تشدد پھوٹ پڑا تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔








