اسلام آباد :(ایجنسی)
رات گئے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد تقریباً 12:40 پر ووٹنگ ہوئی اور اپوزیشن کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان اقتدار سے باہر ہو گئے۔ قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیر کو طلب کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت چھوڑنے کے بعد اتوار کی صبح اسلام آباد میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ وارننگ جاری کی گئی ہے کہ کوئی رہنما یا اہلکار منظوری کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکے گا۔ تمام ہوائی اڈوں کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں عمران خان کے ہاتھ سے اقتدار جاتے ہی ان کے قریبی اور اتحادیوں کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں 9 اپریل کی رات گئے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوتے ہی ان کے ترجمان ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے تمام گھر والوں کے فون ضبط کر لئے گئے ۔ عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خود ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی ۔
پی ٹی آئی نے ٹویٹ کیا : بہت پریشان کن خبر۔ ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ کے تمام فون لے لیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی ڈاکٹر ارسلان خالد کے سوشل میڈیا پر تبصرے پر کی گئی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کبھی کسی کو گالی نہیں دی۔ پی ٹی آئی نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سے اس کارروائی میں مداخلت کی درخواست کی ۔
آپ کی معلومات کے لئے بتا دیں کہ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ڈاکٹر ارسلان خالد ان کی ڈیجیٹل میڈیا مہم کو سنبھال رہے تھے۔ خالد تقریباً ایک دہائی سے عمران خان سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر خالد کو یکم مارچ 2018 کو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے آپریشنز کے سربراہ کے طور پر کام کر چکے ہیں ۔








