میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام سرکار جنگلات سے تجاوزات ہٹانے کے نام پر لگاتار بنگالی بھاشی مسلمانوں کو زمین سے بے دخل کرنے کی مہم چلارہی ہے -اس کا کہنا ہے کہ یہ قانون کی حکمرانی کے لیے ہے مگر اس کے پاس اجاڑے جانے والے پریواروں کے لیے باز آبادکاری کا کوئی منصوبہ نہیں ،جہاں ان کو بے دخل کیا گیا ہے وہ کھلے آسمان کے نیچے ہیں بعض علاقائی تنظیمیں بساط بھر کام کررہی ہیں ہیں مگر وہ بہت ہی ناکافی ہیں آسام میں دونوں جمعیت علمائے ہند کافی با اثر ہیں اور ان کا کام بھی ہے گزشتہ دنوں محمود مدنی کی قیادت والی جمعیت کا ایک وفد متاثرہ علاقوں میں گیا تھا ان کو امداد پہنچائی اور ابتدائی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کی تھی ،ویاں جماعت اسلامی ہند بھی ایکٹو ہے اور اس کے بھی اثرات ہیں علاقائی لوگوں کا تاثر ہے کہ انہیں جو تعاون اور قانونی ،سیاسی اور مالیاتی مدد باز آبادکاری کے لیے چاہیے وہ میسر نہیں ہورہی کیا جاتا ہے ہارنے کے بعد سے دل برداشتہ مولانا بدرالدین اجمل لاپتہ ہیں ـ وہ آج کل میڈیا سے بھی غائب ہیں ایکٹوسٹوں کا کہنا ہے کہ اگر سب مل کر کوآرڈینیشن کمیٹی بناکر کام کریں تو زیادہ موثر ہوگا ،درج زیل رپورٹ گولاگھاٹ کی ہے ایک رپورٹ پہلے بھی شائع ہوچکی ہے حالات بہت دگر گوں ہیں اور جنگلاتی زمین آزاد کرانے کے نام پر مسلمان بنگالیوں کو اجاڑنے کا الزام لگاتار لگایا جارہا ہے
آسام حکومت نے منگل کو گولا گھاٹ ضلع کے اوریام گھاٹ میں رینگما ریزرو جنگل میں اب تک کی سب سے بڑی بے دخلی مہم شروع کی۔ اس کا مقصد 11000 بیگھہ یعنی 3600 ایکڑ سے زیادہ جنگلاتی اراضی کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے۔ اس مہم میں 1000 سے زیادہ پولیس اہلکار، سینٹرل ریزرو پولیس فورس یعنی سی آر پی ایف اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 150 سے زائد بلڈوزر نما مشینیں بھی لگائی گئی ہیں۔ اس مہم کی وجہ سے تقریباً 2000 خاندانوں کے بے گھر ہونے کا امکان ہے، جن میں سے زیادہ تر بنگالی نژاد مسلمان خاندان ہیں۔ تو کیا یہ کارروائی مسلمانوں کو نشانہ بنا کر کی جا رہی ہے؟ کم از کم یہی الزام اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے لگایا جا رہا ہے۔
بے دخلی کا پہلا مرحلہ
آسام حکومت نے اوریام گھاٹ میں رینگما ریزرو فاریسٹ کے 12 گاؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ آسام ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ان دیہاتوں میں سوناریبل ٹاپ، دوسرا پٹھاگھاٹ، دوسرا دیال پور، تیسرا دیال پور، دولون پاتھر، کھیرباری، بدیا پور، بیدیا پور مارکیٹ، دوسرا مادھو پور، اناد پور، راجا پوکھوری اور گیلاجن شامل ہیں۔ ان دیہاتوں کی بستیوں کو غیر قانونی تجاوزات تصور کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ان علاقوں میں بنگالی نژاد مسلمان خاندانوں نے جنگلاتی زمین کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اسے سپاری کی کاشت کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔ اسے حکومت نے ‘سپاری مافیا’ سے جوڑا ہے۔
منگل کی صبح شروع ہونے والی اس کارروائی میں بھاری مشینری کو بیدیا پور بازار سے شروع ہوتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ محکمہ جنگلات نے علاقے کو نو بلاکس میں تقسیم کیا ہے اور سات دن پہلے تمام مکینوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ آسام ٹریبیون نے جنگل کے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا، "تقریباً 80-90% تجاوزات پہلے ہی اپنی جائیداد چھوڑ چکے ہیں۔ ہم صرف غیر قانونی مکانات کو مسمار کر رہے ہیں۔” آسام حکومت نے واضح کیا ہے کہ "غیر قانونی” تعمیرات کے لیے کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کیا کہا؟ چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما نے 25 جولائی کو اوریم گھاٹ کا دورہ کیا اور تجاوزات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 70 فیصد تجاوزات رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ سرما نے کہا، "اوریم گھاٹ میں کچھ خاندانوں نے 200-400 بیگھہ تک زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔” اگر یہ زمین پرامن طریقے سے صاف ہو جاتی ہے تو آسام میں اب تک ڈیڑھ لاکھ بیگھہ زمین تجاوزات سے پاک ہو جائے گی۔’ وزیر اعلیٰ نے علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اوریم گھاٹ ایک ‘جرائم کا مرکز’ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم جنگلات کے تحفظ اور زمین کے قانونی تحفظ کے لیے تھی اور کسی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھی۔
مہم کے خلاف غم وغصہ
اس مہم کو لے کر مسلم کمیونٹی میں غصہ پایا جاتا ہے۔ کئی این جی اوز نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں ایک PIL دائر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں عارضی قیام اور بے گھر ہونے والوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی بی جے پی ایم ایل اے بسواجیت پھکن نے اس مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقامی لوگوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2006 کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت سرٹیفکیٹ رکھنے والے 150 بوڈو خاندانوں کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 42 منی پوری مسلم اور 92 نیپالی خاندانوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔
**بہت سے گھرانوں کے لیے انسانی بحران
بے دخلی مہم نے ایک انسانی بحران کو جنم دیا ہے کیونکہ بہت سے خاندان اپنی روزی روٹی اور رہائش سے محروم ہو گئے ہیں۔ بہت سے خاندانوں نے مالی مجبوریوں اور دستاویزات کی کمی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق این جی اوز نے ہنگامی امداد جیسے خوراک، پانی اور عارضی پناہ گاہ فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔
اوریم گھاٹ بے دخلی مہم آسام حکومت کی جنگلات اور سرکاری زمین کو تجاوزات سے پاک کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ وزیر اعلیٰ سرما نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں 1.29 لاکھ بیگھہ اراضی کو تجاوزات سے آزاد کرایا گیا ہے لیکن 29 لاکھ بیگھہ اراضی اب بھی تجاوزات کی زد میں ہے۔ یہ مہم نہ صرف ماحولیاتی تحفظ اور قانون کی حکمرانی پر سوالات اٹھاتی ہے بلکہ علاقائی تناؤ، کمیونٹی کے ساتھ امتیاز اور انسانی بحران کے مسائل کو بھی سامنے لاتی ہے۔








