نئی دہلی : (ایجنسی)
اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی کے ساورکر کو لے کر دئے بیان کےلیے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دینے سے انکار کردیا ہے ۔ اویسی نے کہا تھا کہ تحقیقاتی کمیشن نے وی ڈی ساورکر کو مہاتما گاندھی کے قتل میں وی ڈی ساورکر کو ملوث پایا تھا ۔
ابھینوبھارت کانگریس نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کران سے اسدالدین اویسی کے بیانات کے لیے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے منظوری مانگی تھی۔ لیکن کے کے وینو گوپال نے منع کر دیا ۔ وینوگوپال نے کہاکہ فیصلے کی کاپی کو پورا پڑھنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ سچ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بھی اس بات کا نوٹس لیا گیا ہے کہ ساورکر کو مجرمانہ مقدمے میں گاندھی کے قتل کا قصور وار نہیں پایا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ حالانکہ اگر فیصلے کو پوڑا پڑھا جائے تو صاف ہے کہ عدالت جسٹس کپور انکوائری کمیشن کے نتائج کو دیکھنے کی خواہش نہیں تھی۔
اٹارنی جنرل نے 26 اکتوبر کے اپنے جواب میں کہا کہ ’’میں اس جانب بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ جسٹس کپور 1962 میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے تھے اور 1966 میں انکوائری کمیشن میں تقرر کئے جاتے وقت وہ ریٹائرڈ جج تھے ۔ اس لئے اویسی کا بیان جسٹس کپور کمیشن کے نتائج سے متلق ہو سکتا ہے ، سپریم کورٹ سے نہیں ۔
انہوں نے کہاکہ اس لئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔ اس لئے میں اویسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
بتادیں کہ اسدالدین اویسی کو لکھے خط میں ابھینو بھارت کانگریس کے بانی پنکج فڈنویس نے سپریم کورٹ کے 28 مارچ 2018 کےفیصلے کا ذکر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا ، درخواست گزار کی یہ دلیل مناسب ہے کہ ساورکر کو گاندھی جی کے قتل کے لیے قصور وار پایا گیا تھا۔ تنظیم نے 15 اکتوبر کے خط میں لکھا :’ ملک کی سپریم کورٹ کے اس واضح بیان کےبعد یہ کہنے کی گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے کہ ساورکر نے گاندھی کا قتل کیا،جیسا کہ آپ نے کہا ہے؟ ‘








