ہریانہ کی نوح ضلع عدالت نے بٹو بجرنگی کو 14 دن کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ بٹو بجرنگی پر نوح میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد بٹو بجرنگی کو نیمکا جیل بھیج دیا گیا ہے۔ 31 اگست کو بٹو بجرنگی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ایک دن پہلے بدھ 16 اگست کو عدالت نے بٹو بجرنگی کو ایک دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بٹو بجرنگی کی نشاندہی پر آٹھ تلواریں برآمد ہوئی ہیں۔
بٹو بجرنگی اور 15-20 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد نوح پولیس نے 15 اگست کو بٹو بجرنگی کو گرفتار کیا تھا۔
بٹو بجرنگی پر سرکاری کام میں رکاوٹڈالنے، ہتھیار چھیننے اور پولیس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا الزام ہے۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) اوشا کنڈو کی شکایت کی بنیاد پر نوح کے صدر پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف درج کی گئی تازہ ایف آئی آر کے سلسلے میں سے پوچھ گچھ کی گئی۔
بٹو بجرنگی نے 31 جولائی کو نوح میں برجمنڈل یاترا سے پہلے سوشل میڈیا پر ایک اشتعال انگیز ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ جس پر فرید آباد پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا ہوگیا تھا۔
وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس کا بجرنگ دل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
وشوا ہندو پریشد نے اپنے آفیشلایکس اکاؤنٹ (پہلے ٹویٹر) پر اپنی تنظیم بجرنگ دل کی جانب سے بٹو بجرنگی کے حوالے سے موقف واضح کرتے ہوئے کہا، ’’راج کمار عرف بٹو بجرنگی، جسے بجرنگ دل کا کارکن بتایا جا رہا ہے، ان کی بجرنگ دل نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔ سے کچھ لینا دینا تھا۔”








