بہار اسمبلی انتخابات سے قبل، حزب اختلاف کے گرینڈ الائنس نے سیٹوں کی تقسیم کے انتظامات کو حتمی شکل دی ہے اور اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو تین نائب وزیر اعلیٰ کی تقرری کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کے سینئر لیڈروں نے کہا کہ اگر گرینڈ الائنس اقتدار میں آتا ہے تو دلت، مسلم اور انتہائی پسماندہ طبقے (ای بی سی) برادریوں سے ایک ایک نائب وزیر اعلیٰ کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔
گرینڈ الائنس کے غیر سرکاری چیف منسٹر کے چہرے کو آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جو پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے قبل دو بار نائب وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ تاہم ان کے اتحادیوں نے ابھی تک ان کے نام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تیجسوی کا مقابلہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ہوگا، جن کے پاس اس وقت دو نائب وزیر اعلیٰ ہیں: سمراٹ چودھری (او بی سی) اور وجے کمار سنہا (بھومیہار)۔
*نشستوں کی تقسیم کا فارمولا
آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ سیٹوں کی تقسیم کے فارمولے کو تقریباً حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ آر جے ڈی تقریباً 125 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی، جو 2020 میں اس نے لڑی 143 سیٹوں سے 19 کم ہیں۔ کانگریس کو 50-55 سیٹیں ملیں گی، اور بائیں بازو کی پارٹیوں کو تقریباً 25 سیٹیں ملیں گی۔ بقیہ سیٹیں دیگر حلیفوں جیسے وکاسشیل انصاف پارٹی (VIP)، لوک جن شکتی پارٹی ،(پشوہتی کمار پارس ) اور جھارکنڈ مکتی مورچہ میں تقسیم ہوں گی۔ تیواری نے کہا، "یہ فارمولہ یہ واضح کرتا ہے کہ تیجسوی یادو اتحاد کا غیر متنازعہ وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہیں۔ یہ تیجسوی کا ماسٹر اسٹروک ہے کہ آر جے ڈی کی شبیہ کو یادو مرکوز سیاست سے بدل کر دلتوں، ای بی سی اور اقلیتوں کو اقتدار میں حصہ داری دی جائے۔”
**کانگریس اور وی آئی پی کی حمایت
کانگریس لیڈر پروین سنگھ کشواہا نے کہا کہ تین نائب وزیر اعلیٰ کی تجویز راہل گاندھی کی سماجی انصاف کی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اسے تمام برادریوں کو اکٹھا کرتے ہوئے سماجی انصاف کے بیانیے کو آگے بڑھانے کی ایک بہتر کوشش قرار دیا۔ دریں اثنا، وی آئی پی کے ترجمان دیو جیوتی نے کہا کہ تیجسوی کو جمعرات کی شام تک اتحاد کا وزیر اعلیٰ امیدوار قرار دیا جائے گا، جس میں مکیش سہنی ان کے نائب وزیر اعلیٰ میں سے ایک ہوں گے۔
**کچھ جماعتوں کو فارمولہ ناپسند ۔
راشٹریہ لوک مورچہ کے جنرل سکریٹری رام پوکے شرما نے اسے ہوا میں قلعے بنانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘گرینڈ الائنس کے لیے تین ہندسوں تک پہنچنا بھی مشکل ہوگا، اس کے باوجود وہ ایسے اعلانات کر رہے ہیں’۔ جن سوراج پارٹی کے انیل کمار سنگھ نے اسے انتخابات سے پہلے ایک "غلط پیغام” قرار دیا اور کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اقتدار کی تقسیم نوکر شاہی کی پیچیدگیوں اور اندرونی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے، جس سے تیجسوی کی اپنی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔








