دوٹوک:قاسم سید
ہماری خواہشات کے برعکس بہار کے نتائج ائے،نئی سرکار بن گئی ،سیمانچل کا بیٹا،سی ایم ڈپٹی سی ایم ہوگا یہ تو نہیں ہوسکا مگر پرفریب نعروں کی لہروں پر سوار ہوکر اپنی ہی کشتی سوراخ کر بیٹھے ،شکاری دوسرے ٹھکانے کی تلاش میں چل پڑے اور بہار میں نمائندگی پہلے کے مقابلے آدھی ہوکر گیارہ پر سمٹ گئی ،ہوش مند خبردار کرتے رہے مگر نعرہ تکبیر کی بلند آوازوں میں کسی نے کان نہیں دھراـ مسلمانوں کی لگاتار سیاسی بے وزنی کی ذمہ دار صرف بی جے پی نہیں بلکہ ہم خود بھی ہیں
بہار کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا کہ بھارت کی سیاست میں مسلمان کہاں کھڑے ہیں اور آنے والے برسوں میں ان کے لیے سیاسی جگہ مزید سمٹے گی یا وسیع ہوگی۔ انتخابات محض نشستوں کے جمع ضرب کا کھیل نہیں ، وہ سماج کی ترجیحات، اکثریتی ذہن کی سمت اور اقلیتوں کی سیاسی کاُمیدوں اور عزم کا آئینہ بھی ہوتے ہیں۔ مگر اس بار کا منظرنامہ مسلمانوں کے لیے ایک سخت اور بے رحم تنبیہ ہےـ جس میں یہ حقیقت پوری صفائی کے ساتھ سامنے ہے کہ خاطر خواہ تعداد کے باوجود نمائندگی لگاتار کم ہوتی جا رہی ہے، ‘غیر مشروط وفاداری’ کے باوجود حصہ داری محدود،اور سیاسی ممعنویت تیزی سے گھٹ رہی ہے۔
مسلمانوں کو اس انتخاب میں جو کچھ ملا، وہ کم ہوتی سیٹوں کے ساتھ ایک پیغام بھی ہے۔ نشستوں کا تناسب نہایت کم، نمائندگی برائے نام، اور انتخابی اتحادوں کی تقسیم میں وہی پرانی تنگ نظری کہ مسلمان بطور ووٹر تو منظور ہیں مگر بطور امیدوارغیر ضروری بوجھ۔ اس سے ووٹ لے سکتے ہیں مگر اس کے لیے ووٹ مانگ نہیں سکتے ـ اس معاملہ میں سیکولر اور فرقہ پرست پارٹیوں کے بیانیہ میں کوئی فرق نہیں یہ کڑوی سچائی اب کسی بحث اور دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ کسی بھی بڑے اتحاد،چاہے وہ بی جے پی کا ہو یا کانگریس کا،مسلمانوں کو مطلوبہ نمائندگی کے لیے بالکل تیار نہیں۔ دونوں کی اپنی دلیلیں ہیں ـ مسلم امیدوار کو خطرہ سمجھا جاتا ہے، حتی کہ اب داڑھی مٹوپی والے کے ساتھ اسٹیج شئیر کرنے سے بھی گریز کیا جانے لگا ہے ،یہ سچائی ہے اسے ماننا چاہیے مسلم ووٹ کو یقینی مگر مسلم چہرہ ’’شجر ممنوعہ ‘‘ہے۔ یہ دو عملی مسلم سیاست کی ہزار کوششوں کے باوجود ختم نہیں ہو رہی، بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔یہ اویسی جیسی سیاست کے لیے زرخیز زمین ہے
یہ صورتِ حال صرف اس لیے نہیں کہ اکثریتی بیانیہ طاقتور ہو چکا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ مسلمان بطور سماج اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلم سیاست کا مرکز دو نکات رہے: پہلے، ’’کسے روکنا ہے دوسرے،’’کسے جتانا ہے‘‘۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو م”جو بی جے پی کو ہرائے اسے جتادو کے منفی نعرے کی طواف گیری میں تین دہائیاں گزار دیں،نتیجہ سامنے ہے ـ ۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹ کا وزن تو باقی ہے لیکن ووٹ کا وقار نہیں رہا۔ سیاسی جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ مسلمان ووٹ خوف سے پڑے گا، بی جے پی کے خلاف پڑے گا،
مسلمانوں کی زمین کیوں سمٹتی جا رہی ہے؟ اس کے اسباب کئی ہیں لیکن بنیادی حقیقت بہت سادہ ہے: سیاست صرف تعداد کی بازیگری نہیں، قوتِ فیصلہ، داخلی نظم اور اجتماعی بصیرت کی بھی متقاضی ہے۔ مسلمانوں کے پاس تعداد ہے مگر تنظیم نہیں؛ جذبات ہیں مگر لائحہ عمل نہیں؛ احتجاج ہیں مگرسیاسی ادارے نہیں؛ قیادتیں بہت ہیں مگر رہنمائی کا کوئی مرکزی دھارا نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان ووٹ تو ہے مگر مسلم سیاسی قوت نہیں۔ ایک منتشر، ردعملی، بار بار دھوکہ کھانے والا نام نہاد ووٹ بینک جب اپنی وحدت بھی برقرار نہیں رکھتا تو اس کے لیے سیاسی جگہ کیوں لڑی جائے؟
اس ذہنیت کے مقابلے میں مسلمانوں کے پاس اب دو ہی متبادل راستے بچے ہیں: یا وہ اسی چکی میں پِستے رہیں، سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کو اقتدار دلانے کے لیے لڑتے رہیں یا وہ خود کو ایک نئے سیاسی، سماجی اور فکری ماڈل میں ڈھالیں۔ اور بدلتے حالات کے مطابق کھلا متوازن رویہ اپنائیں اپنے سیاسی دوست ،دشمن خود طے کریں ـسیاسی بقا صرف اتحادوں سے نہیں، اپنی داخلی تنظیموں سے آتی ہے۔ جہاں اپنا تھنک ٹینک نہ ہو، اپنی انتخابی حکمت نہ ہو، زمینی قوت نہ ہو ،گراونڈ پر کام نہ ہوـ وہاں اتحادی بھی بوجھ سمجھتے ہیں۔ مسلمان اگر اپنی بچی کھچی سیاسی حیثیت بچانا چاہتے ہیں تو انہیں ووٹر کی سطح پر منظم ہونا ہوگاـ محض احتجاجی نظم نہیں بلکہ سیاسی تربیت ، پالیسی فہم اور مذاکراتی قوت پیدا کرنا ہوگی ـ
اسی کے ساتھ مسلمانوں کو اپنی متبادل قیادت پیدا کرنا ہوگی وہ قیادت جو ردعمل سے اوپر اُٹھ کر مستقبل بینی رکھتی ہو، سیاسی انجینئرنگ جانتی ہو، اتحادوں کے ساتھ بات کر سکے اور سیاسی قیمت طے کر سکے۔ نئی نسل کو بھی یہ خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا، صرف نوحہ ؟گری،کوسنوں سے کام نہیں چلنے والا،ریجکٹ کرنے سے پہلے متبادل کھڑا کرنا ہوگا ،مذہبی قیادت میں آگ اگلنے والوں کی جگہ ،سنجیدہ،معتدل مزاج، متحمل بردبار اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو طاقت دینی ہوگی ،شور شرابہ ،جلسے جلوس ،ہنگامہ ممپسند، آ اور نعرے بازوں نے صرف تباہی کی طرف دھکیلا ہے ان سے ہوشیار رہنا ہوگاـ ورنہ سیاسی فضا میں آواز مزید کم ہوتی چلی جائے گی
حالات میں اتار چڑھاؤ آتا جاتا ہے ان سے مایوس یا بددل ہونے کی قطعیت ضرورت نہیں ، قوموں کی سمت ہمیشہ ایک بڑے سوال کی محتاج ہوتی ہے: کیا ہم اپنے وجود کے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں؟ بہار کے نتائج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے اگر ہاں تو کیسے اس کا جواب بھی دیا جاچکا ہے اور یہی بہار نتائج کا سبق بھی ہے ایڈ ہاک یا موسمی پالیٹکس اس کا علاج نہیں یہ مستقل اور صبر آزما کام ہے ـ











