نئی دہلی:(ایجنسی)
پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا موازنہ مہاتما گاندھی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل سے کرنے پر تنقید کا سامنا کررہے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے بعد اب بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اگر محمد علی جناح کو ملک کا پہلا وزیر اعظم بنایا جا تا تو بھارت تقسیم سے بچ سکتا تھا۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے قومی ایگزیکٹیو ممبر اورآر ایس ایس کےترجمان آرگنائزر پتریکا کے سابق ایڈیٹر شیشا دری چاری نے کہاکہ ’ بدقسمتی سے ہمارےلیڈروں نے اس بارے میں نہیں سوچا۔ اگر ہمارے لیڈروں نے تب اس بارے میں سوچا ہوتا اور انہیں وزیر اعظم عہد کی پیشکش کی ہوتی تو کم سے کم تقسیم نہیں ہوتا،حالانکہ یہ الگ مسئلہ ہے کہ ان کے بعد وزیر اعظم کون بنتا، لیکن اس وقت تقسیم نہیں ہوتا۔‘
بی جے پی کے ایک اعلیٰ لیڈرکے ذریعہ اس طرح کا بیان دینا ایسے وقت میں کافی اہمیت کاحامل ہے جب اہم طور سے اکھلیش یادو کے جناح کو لے کر ان کے بیان کی مختلف لیڈروں بالخصوص طور سے بی جے پی لیڈروں نے سخت تنقید کی تھی، جن میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی شامل ہے ۔
اترپردیش کے ہردوئی میں 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 146 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ایک پروگرام کو خطاب کرتےہوئے اکھلیش یادو نےکہا تھا کہ سردار پٹیل ، بابائے قوم مہاتما گاندھی ،جواہر لال نہرو اورجاح نے ایک ہی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بنے۔انہوں نے بھارت کو آزادی دلانے میں مدد کی اور کبھی کسی جد وجہد سے پیچھے نہیں ہٹے ۔
ان کے اس بیان کی بی جے پی نے سخت تنقید کی اور ان کے بیان کو شرمناک بتاتے ہوئے پارٹی کے لیڈروں نے ان سے معافی کی مانگ کی تھی ۔
اکھلیش یادو کے اس تبصرہ کے بعد بی جے پی کے قومی ایگزیکٹیو ممبر چاری نے جے پور میں انفارمیشن کمشنر ادے ماہورکر کی کتاب ’ ویر ساورکر : دی مین ہو کڈ ہیو پریونٹڈ پارٹیشن ‘ کے اجرا کےموقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر 15 اگست 1947 کو جناح کو آپ وزیر اعظم بنا بھی دیتے تو ہم بھگوان سے پراتھنا کرتے کہ وہ بہت عرصہ تک زندہ رہتے،لیکن وہ نہیں رہ سکتے تھے، وہ ایک سال بھی زندہ نہیں رہیں گے یہ برٹش کو معلوم تھا کہ وہ ٹی بی کے مریض ہیں اور بستر مرگ پر ہے۔ انگریزوں کو معلوم تھا کہ وہ ایک سال بھی زندہ نہیں رہ پائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ان کےتبصروں میں بہت سارے ’اگر اور لیکن ‘ہو سکتے ہیں ۔ چاری نے کہاکہ اگر ہم تقسیم کے لئے راضی نہیں ہوتے اوراگلے دس برس کے لیے آزادی کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہوتا توہم نے کہا تھا کہ ساورکر اور کہ ایم منشی کی طرح اس ملک کی تصویر الگ ہو سکتی تھی اور شاید پاکستان نہیں ہوتا۔








