اردو
हिन्दी
مارچ 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کسی ملک کا حکمران اتنا بے حس اور بے مروت ہوسکتا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
کسی ملک کا حکمران اتنا بے حس اور بے مروت ہوسکتا ہے؟

(علامتی تصویر)

93
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

روہنی سنگھ

سنا ہے کہ ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی ایک ایسا شہر ہے جو آٹھ بار اجڑا ہے۔ یہ شہر تیمور لنگ، نادر شاہ اور برطانوی افواج کی غارت گری جھیل چکا ہے۔ 1984میں تو اس شہر کے شہریوں کے خون سے سڑکیں لال ہو گئی تھیں۔مجھے خواب و خیال میں بھی کبھی ایسا اندیشہ نہ تھا کہ میں خود اس شہر کو ویران ہوتے ہوئے اور اس کے شہریوں کو بے بسی کی موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے دیکھوں گی ۔ تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ 1665میں جب لندن کو طاعون کی وباء نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو رات کی تاریکی میں ایک گاڑی بان نمودار ہوتا تھا، جو گلی گلی گھوم کر آواز یں لگاتا تھا،’’اپنے گھروں کے مردے باہر نکالو‘‘۔اس کچرا نما گاڑی میں مردوں کو ٹھونس کر ان کے رشتہ دار اپنے پیاروں کو آخری سفر کے لیے رخصت کرتے تھے۔میں دہلی کے جس رہائشی علاقے میں رہتی ہوں، گزشتہ دس روز سے صبح و شام کسی نہ کسی فلیٹ یا بلڈنگ سے رونے دھونے کی آوازیں آنا تو معمول بن گیا ہے۔ ابھی یہ آوازیں تھمتی نہیں کہ کسی دوسرے فلیٹ سے ماتم کی آوازیں کلیجہ شق کر دیتی ہیں۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آپ تعزیت پرسی اور ان کے غم میں شریک ہونے بھی نہیں جاسکتے ہیں۔ کیونکہ افراد خانہ اکثر قرنطینہ میں ہوتے ہیں۔ سچ کہوں، صبح بیدار ہوتے ہی، میں پہلے اپنے آپ کو پھر شوہر اور بیٹے کو جھنجوڑ کر خود کو یقین دلاتی ہوں، کہ ہم سب ابھی سانس لے رہے ہیں اور پھر اوپر والے کا شکر ادا کرتی ہوں۔ یہ بلاگ میں انتہائی غمزدہ دل کے ساتھ تحریر کر رہی ہوں اور اس کو لکھتے ہوئے میں کئی بار رو پڑی ہوں۔
میں پچھلے ایک ہفتہ سے زندگی کی کشتی کو کورونا وائرس کے خوفناک بھنور سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہوں، جب سے میرے گھر پر اس وبا نے دستک دی۔ گزشتہ جمعرات کو میری ساس نے شکایت کی کہ وہ کئی روز سے ہلکے بخار میں مبتلا ہے۔ کوروناکا ٹیسٹ کرایا۔ جانچ کی رپورٹ منفی تھی۔ لہٰذا تشخیص ہوئی کہ یہ معمولی بخار ہے۔ تاہم رات کے آٹھ بجے کے قریب ان کو سانس لینے میں تکلیف ہونا شروع ہوگئی۔معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں آکسیجن کی سیچوریشن کا معیار54 تک گر گیا تھا۔ اگر یہ معیار 90 سے کم پہنچ جائے تو جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ایمبولینس کسی اسپتال سے منگوانا کارے دارد والا معاملہ تھا۔ اسی لیے وقت ضائع کیے بغیر ہم ان کو اپنی گاڑی میں لٹا کر اسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔اسپتال میں ڈاکٹر تو دور کی بات، کوئی مدد گار بھی موجود نہیں تھا۔ ہم نے ایک اسٹریچر تلاش کرکے مریض کو لٹا کر ایمرجنسی کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔ کوئی ڈاکٹر ان کے پاس آکر معائنہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسپتال میں بیڈ نہ آکسیجن کا انتظا م تھا۔ایک ہجوم مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا۔دہلی میں میرے پچھلے 15سال جرنلزم اور قومی میڈیا میں کام کرنے اور لاتعداد تعلقات کے باوجود کوئی مدد کرنے نہیں آیا۔ بے بسی اور لاچارگی کی حالت میں ہم نے ان کو دوبارہ اپنی کار میں لٹا کر دوسرے اسپتال کا رخ کیا۔ لیکن یہاں بھی وہی منظر تھا۔ وہاں تو گیٹ بھی نہیں کھولا گیا۔ ساس کا سر میری گود میں تھا او روہ سانس لینے کے لیےبری طرح ہانپ رہی تھی۔میں بار بار ان کے سینے کو مسل کر ان کو سانس لینے میں مدددینے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر یہ کوششیں کتنی بار آور ہوسکتی تھیں۔ وہ اس دوران بے ہوش ہوگئی۔
اب ہم تیسرے اور پھر چوتھے اسپتال کے دروازہ پر دستک دینے پہنچ گئے۔ میں مسلسل فون پر اپنے تمام رابطوں کر بروئے کار لاکر مدد کی دہائی دے رہی تھی۔آخر کار کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد گھر سے16 کیلومیٹر صفدرجنگ اسپتال میں ایک ڈاکٹر میری ساس کا معائنہ کرنے پر راضی ہوگیا۔ مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ شاید میری ساس کو ہماری بھاگ دوڑ، کسمپرسی اور لاچاری دیکھی نہیں گئی۔ کب اس نے گاڑی میں ہی دم توڑ دیا تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں چل سکا۔ ڈاکٹر نے بس نبض دیکھ کر بتا یا کہ ان کو اب کسی علاج اور آکسیجن کی ضرورت نہیں ہے۔
اسپتال کے باہر اور اندر ہم نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی قطاریں دیکھی، جو مدد کے لیے دہائی دے رہے تھے۔پانچوں اسپتالوں میں ہمارے ارد گرد لوگ تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے۔ ایک قیامت برپا تھی۔ ایک افسردگی اور شکستگی کا ماحول تھا۔ لگتا تھا کہ عالم برزخ ہے۔اس ایک ہفتہ کے دوران میں نے اپنے تین عزیزوں کو کھویا۔ یہ صرف میری کہانی نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی اس نئی لہر نے تقریباً پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
الیکشن کے انعقاد اور اتراکھنڈ کے شہر ہری دوار میں کمبھ میلہ نے تو اس وائرس کو پرساد کے روپ میں گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ تقریبا ً ہر کسی گھر میں کسی نہ کسی عزیر کی موت یا انفیکشن کا شکار ہو گیا ہے۔پچھلے سال کورونا کی پہلی لہر اور لاک ڈاؤن کے دوران میں نے اپنے علاقے میں چند دوستوں کے ساتھ مائیگرنٹ مزدورں کی اعانت کے لیے ایک کیمپ کھول کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا ہوا تھا،چونکہ احباب کو معلو م ہے کہ میں نے پچھلے 15سال قومی میڈیا میں گزارے ہیں، اس لیے وہ توقع کرتے ہیں کہ میں ان کی کسی مشکل میں مدد کروں۔دن میں کئی بار فو ن پر لوگ مدد کے لیے دہائی دیتے رہتے ہیں، کسی کو اسپتال کا بیڈ چاہیے، تو کسی کو آکسیجن کا سلنڈر،پلازمایادوائی۔ اب میں کیسے ان کو بتاؤں کہ میں خود اپنے آپ کو کتنا بے بس اور لاچار محسوس کر رہی ہوں۔ کوئی وزیر یا افسر یا تو فون اٹھانے کی ہی زحمت نہیں کرتا ہے یا بس خالی وعدہ کرکے ٹال دیتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ خود بھی مدد کرنے سے معذور ہیں۔
اس ہاہا کار کے دوران پچھلی بار کی طرح، اس بار بھی سکھ برادری اپنے مذہبی مراکز اور گوردواروں کے دروازے کھول کر مفت کھانے کے ساتھ ساتھ، بستر، آکسیجن اور دوائیوں کا انتظام کررہے ہیں۔ دہلی کے نواح غازی آباد میں ایک چھوٹے سے کمیونٹی گورو دوارے میں ایک رضاکار گروپ خالصہ انٹرنیشنل دور دراز سے آکسیجن سلنڈر لا کر بے یار و مددگار افراد کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔مگر حالات اتنے شدید ہیں کہ وہ ایک محدود حد تک ہی مدد کرسکتے ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ بس ایک آکسیجن سیلینڈر کی خاطر کئی خاندانوں کو اپنے زیور اور اثاثہ بیچنے پڑے ہیں۔ جو سلنڈر چند سو یا ہزار میں دستیاب ہوتا ہے اس کی قیمت 60ہزار سے ایک لاکھ تک ہو گئی ہے اور بس چند گھنٹوں تک ساتھ دیتا ہے۔
فیس بک اپنوں اور غیروں کی تعزیت اور خبر مرگ سے بھرا پڑا ہے۔ سوشل میڈیا اسپتالوں کے اندر اور باہر، سڑکوں پر لوگوں کی پرسان حالی کے ویڈیوز سے پر ہے۔ قبرستان اور شمشان لاشوں سے اٹے پڑے ہیں۔ ارتھیوں پر برا جمان مردوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔آخری رسوم کے لیےدو یا تین دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حالات سے پریشان اکثر افراد لاشوں کوشمشان یا قبرستان کے باہرہی چھوڑکر بھاگ رہے ہیں۔
مارچ 1739 میں نادر شاہ نے جب دہلی پر حملہ کیا تو بتایا جاتا ہے کہ کئی ہزار افراد کی لاشیں قبرستان کے باہر پھینکی گئیں تھیں اور پھر انہیں باندھ کر جلایا گیا تھا۔دہلی کے فرمانروا محمد شاہ رنگیلا نے شہریوں کی بچانے کے بجائے اپنی جان اور مال کو بچانے پر ترجیح دی۔ یہی حال موجودہ حکمرانوں کا بھی ہے۔ عوام کو کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔آہ و فغان کی آوازیں ساؤتھ بلاک کے دفاتر یا لوک کلیان مارگ کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ آوازیں سنگین دیوارں کو شگاف کرنے اور حکام کے کانوں تک پہنچے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ کیا کسی ملک کا حاکم اس قدر بے حس، بے مروت اور بے اعتنا ء ہوسکتا ہے؟ستم
ظریفی دیکھیے،چندسال قبل اتر پردیش میں انتخابی مہم کے دوران ووٹ مانگنے اور ہندو ووٹوں کو لام بند کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مود ی نے پچھلی حکومتوں پر طنز کیا تھا کہ وہ صرف قبرستانوں پر توجہ دیتے ہیں، گاؤں دیہات میں شمشان نہیں بناتے ہیں۔ اب تو ہندوستان کے ہر گاؤں و بستی میں شمشان آباد ہو رہے ہیں۔لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی جی نے تو مندر، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پاکستان کو سبق سکھانے اور شہریت قانون کو لاگو کرنے کے لیے ووٹ مانگے تھے اور ان اقدامات کو انہوں نے ایمانداری کے ساتھ نافذ کرادیا۔ انہوں نے صحت عامہ اور عوامی بہبود سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔
آخر اس کو کیا کہیں گے، کہ دنیا میں ویکسین بنانے والے سب سے بڑے ملک ہندوستان نے جنوری تک کوئی ویکسین ہی بک نہیں کیا تھا۔ جب برطانیہ، امریکہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، برازیل، جرمنی اورجاپان ایڈوانس میں پچھلے سال ہی فی کس 50 ملین سے 300 ملین ویکسین ڈوز تک بک کررہے تھے، ہندوستان نے جنوری میں سیریم انسٹی ٹیوٹ سے 11ملین اور بھارت بایو ٹیک سے 5.5ملین ڈوز کا پہلاآرڈر دے دیا۔
شاید مودی حکومت کو یقین نہیں تھا کہ ان کے سائنسدان ویکسین بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ پھر وشو گرو یا عالمی پیشوا بننے اور چین کے ساتھ صحت سفارت کار ی میں مقابلہ کرنے کے لیے95ممالک کو 66ملین ڈوز روانہ کر دیے۔ اور اس دوڑ میں ہندوستان کا ہی سانس اس قدر پھول گیا ہے کہ دم نکل سکتا ہے۔اس سانس کو بحال کرنے کے لیے اپنی طرم خانی بھلا کر اب ہم دنیا کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہے ہیں۔
میر تقی میر اگر آج زندہ ہوتے، تو ایک بار پھر کہتے۔
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

) یہ بلاگ ڈی ڈبلیو اُرود پر شائع ہوا ہے)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
Bhagwat Commentary Critical Analysis
مضامین

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

23 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Iran Survival War Statement

یہ ایران کی بقا کی جنگ ہے، نشانہ گلف ممالک نہیں وہاں موجود امریکی اڈے ہیں: ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی

مارچ 4, 2026
Iran Strategy Analysis News

ٹاپ لیڈرشپ ختم پھر بھی ہے دم ، ایران کی اسٹریٹجی سمجھنا ہے تو یہ اسٹوری ضرور پڑھیں

مارچ 3, 2026

حالیہ خبریں

Malaysia PM Conspiracy Statement

یہودی لا بی کی میری حکومت گرانے کی سازش : ملیشیا کے پی ایم کا انکشاف، کہا ایران، غزہ کی آواز اُٹھانا جرم ہے؟

مارچ 4, 2026
Mojtaba Khamenei Supreme Leader News

"مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب؟”

مارچ 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN