ہری دوار کے بہادر آباد ٹول پلازہ پر کسانوں کا طویل احتجاج دیکھنے میں آرہا ہے۔ جمعرات کو لاٹھی چارج کے بعد کسانوں نے نہ صرف سڑک پر قبضہ کر لیا بلکہ احتجاج کو طول دینے کی تیاریاں بھی کر لی ہیں۔
دینک ہندوستان کے مطابق ٹول پلازہ کی سات میں سے چار لین کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف دہلی-ہری دوار ہائی وے پر ٹریفک کا نظام متاثر ہوا ہے وہیں دوسری طرف کسان اپنے مطالبات پر اڑے ہوئے ہیں۔ کسانوں نے احتجاج کے مقام پر کیمپ لگا رکھا ہے۔ کسان اپنی چٹائیاں اور بستر بچھا کر سڑک پر بیٹھ گئے۔ کئی کسان اپنے ساتھ ٹریکٹر ٹرالیوں میں راشن لے کر آئے ہیں۔ دالیں، چاول، چینی، آٹا، سبزیاں اور دیگر اشیاء کے انتظامات پہلے ہی کر لیے گئے ہیں۔ پینے کے پانی کے لیے ٹینکر منگوائے گئے ہیں۔ احتجاج کے مقام پر چولہے جل رہے کسانوں نے پوری تیاری کے ساتھ ڈیرے ڈالے۔
اس کے علاوہ کسانوں نے بھی رات گزارنے کی بھرپور تیاریاں کر رکھی ہیں۔ کئی کسان اپنے ٹریکٹر ٹرالیوں میں بستر لے کر پہنچ گئے، جب کہ کچھ کھلے آسمان تلے سو گئے۔ راکیش تکیت کا کہنا ہے کہ وہ جلد بازی میں واپس نہیں جا رہے ہیں۔ وہ اب ہریدوار آ گئے ہیں اور یہیں احتجاج کریں گے۔ ان کا واضح کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کی بات نہیں مانے گی تحریک جاری رہے گی۔ آئندہ کا خاکہ 25 اگست کو ہونے والے اجلاس کے بعد طے کیا جائے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس کھانے پینے کے مناسب انتظامات ہیں اور کوئی مشکل تحریک کو کمزور نہیں کر سکے گی۔ پولیس انتظامیہ نے بھی احتیاط کے طور پر موقع پر بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ بھی موقع پر موجود ہیں۔ اس کے باوجود کسانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ٹول پلازہ پر کھڑے کسانوں کے جوش و خروش کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب چند دنوں کی نہیں ہے، بلکہ ایک طویل لڑائی کی تیاری میں بدل چکی ہے۔








